Nudrat Inquilabi
aap ki tavajjoh se dil ne zindagi paai
آپ کی توجہ سے دل نے زندگی پائی آپ ہی کو زیبا ہے دعوائے مسیحائی آپ کے تغافل نے راہ کتنی دکھلائی آپ بھی نہیں آئے نیند بھی نہیں آئی کس مقام پر میرا ذوق دید آیا ہے خود ہی میں تماشا ہوں خود ہی میں تماشائی کون جانے کب ہوگا فیصلہ محبت کا کب تلک رہے کوئی آپ کا تمنائی سخت ہے زمیں لیکن شعر کہہ گیا ندرتؔ گل کھلا گئی کیا کیا اوس کی خامہ فرسائی