Nudrat Meeruti
naala-e-dil ki sadaa divaar mein yaa dar mein hai
نالۂ دل کی صدا دیوار میں یا در میں ہے سور یا محشر میں ہوگا یا ہمارے گھر میں ہے یوں تو مرنے کو مروں گا میں مگر مٹی مری یا فلک کے ہاتھ میں یا آپ کی ٹھوکر میں ہے وہ اگر دیکھیں تو اب حالت سنبھلتی ہے مری وہ اگر پوچھیں تو اب مجھ کو شفا دم بھر میں ہے دے دے چلو میں اکٹھی کر کے اے ساقی مجھے کچھ ابھی تو خم میں ہے شیشہ میں ہے ساغر میں ہے نقد جاں لینے کو مقتل میں قضا ندرتؔ مری بن کے دلہن رونما آئینۂ خنجر میں ہے