Nusrat Raihana Asif
raat kaa aaj hai safar tanhaa
رات کا آج ہے سفر تنہا رات ہے تنہا اور نظر تنہا مدتوں یوں رہا کوئی دل میں سیپ میں جیسے ہے گہر تنہا یوں گئی روٹھ کر بہار کہ اب ہو گیا جیسے ہے شجر تنہا چپکے چپکے چلی ہے رات کہیں آنکھ ملتا رہے قمر تنہا شور دھڑکن کا نہ خبر دل کی کیسے پھر ہو یہ طے سفر تنہا کون ملتا ہے دل سا دیوانہ اس سے چھوٹے تو ہے بشر تنہا کاسۂ درد لیے پھرتا ہے دل یہ نصرتؔ کا ہے مگر تنہا