Nusrati Bijapuri
جوبن کی دیکھ اومنگ دھرے جب تو مان کیا
جوبن کی دیکھ اومنگ دھرے جب تو مان کیا پانی پہ بڑ بڑے کا رہتا ہے اوٹھان کیا چڑتا چلیا ہے آج مدن مد کا یو اثر ابھرے گی آہ کس کی صبا لگ پچھان کیا بن کیف کیوں نین یو تیرے سرخ ہیں سدا ہیں عاشقاں کے خون تیرے چک کوں پان کیا زینت دھریا زمانہ سکھی اوس جمال تے تجھ حسن سوں عروس بنی سب جہان کیا طالب ہیں نصرتی کے نین تجھ درس کے روز منگتے پہ مہرباں ہو نہ دیتا ہے دان کیا