
Om Awasthi
Om Awasthi
Om Awasthi
Ghazalغزل
ہونا تو نہیں چاہیئے پر یار ہوا تو رہبر ہی مری راہ کی دیوار ہوا تو تو اپنی انا میں جسے کم آنک رہا ہے اک دن ترے لشکر کا وہ سردار ہوا تو تنکا بھی جسے دیتے ہو احسان سمجھ کر ہر شے میں برابر کا وہ حق دار ہوا تو کہتے ہیں اداسی کا سبب عشق میں جس کو دراصل وہی ہجر مزے دار ہوا تو
honaa to nahin chaahiye par yaar huaa to
اس کی یادوں کو کبھی دل سے نکالا نہ گیا سبز ڈالی تھی جہاں پیڑ وہ کاٹا نہ گیا ہجر میں ہم نے ترے خوب غزل لکھ ڈالی بے وفائی کا یہ احسان بھلایا نہ گیا تیرے ہونے کا مجھے اب بھی بھرم ہوتا ہے جسم سے دور کبھی جیسے کی سایا نہ گیا رات تنہائی میں دو لوگ جگے رہتے ہے ہجر والے یا جنہیں ہجر میں ڈالا نہ گیا ہر گھڑی سوچ میں اک بات یہی رہتی ہے بے وفا تھے یا مرا عشق سنبھالا نہ گیا دل کے سب دوار تیرے بعد لگا رکھے ہے تیرے کمرے کو ترے بعد بگاڑا نہ گیا
us ki yaadon ko kabhi dil se nikaalaa na gayaa
رہ کر زمیں پہ چاند کے دیدار کے لئے دفتر میں دن گزرتے ہیں اتوار کے لئے اتنا تو مسئلہ بھی نہ تھا جتنا شور ہے بس بھیڑ جٹ گئی ہے یہ بیکار کے لئے بے وجہ کھینچ تان میں کشتی ڈبو گئے جب کہ سبھی کو جانا تھا اس پار کے لئے بس حال چال کا یہ دکھاوا نہ کیجیے رب تک دعائیں بھیجئے بیمار کے لئے آنکھوں کو رب نے اس لیے بینائی سونپ دی جس سے ہو ایک آئینہ دیدار کے لئے پھر یوں ہوا کہ ہم کو کبھی وقت نہیں ملا جب سے گھڑی خرید لی دیوار کے لئے قصے میں جنگ آئی تو قربان ہو گئے پیادے لڑے تھے آخری کردار کے لئے
rah kar zamin pe chaand ke didaar ke liye
دھویں میں اڑ گئیں سانسیں سگار ختم ہوا اسی کے ساتھ ترا انتظار ختم ہوا بدن سے کر کے الگ روح کو جہاں والے یہ سوچ لیتے ہیں دنیا سے پیار ختم ہوا تمہارا حسن بھی پھیکا پڑا اے ماہ جبیں مرا بھی عاشقوں میں اب شمار ختم ہوا کسی نے ہونٹوں پہ رکھ دی ہیں انگلیاں اپنی اب اس سے آگے مرا اختیار ختم ہوا
dhovein mein uD gaiin saansein cigar khatm huaa
مطلب پتا نہیں تھا بتانے چلے گئے ہم عشق کرکے عشق نبھانے چلے گئے ہم نے نظر کو اپنی ٹکایا تھا چاند پر پھر خواب لے کے چاند کو پانے چلے گئے اس کو عجب سے حال میں دیکھا تھا ایک دن موسم سے پھر یہ رنگ سہانے چلے گئے اب پیڑ خود کی چھانو میں بیٹھا ہے رات دن سب لوگ دور شہر کمانے چلے گئے ہم جیسا کوئی عشق میں مجنوں نہیں بنے لیلیٰ کو اس کے گھر پہ بلانے چلے گئے ہم سے تو دشمنی بھی نہ ہو پائی ٹھیک سے ٹھوکر لگی جو تجھ کو اٹھانے چلے گئے مجبوریوں نے مجھ کو بدل کر کے رکھ دیا تیور مری زباں سے پرانے چلے گئے
matlab pataa nahin thaa bataane chale gae
پھینکی ہے فتح یاب نے دستار کھینچ کر پہلے یہ کام ہوتا تھا تلوار کھینچ کر اجداد سے سنا تھا ادھر اپنے لوگ ہیں اک روز چاہ لے گئی اس پار کھینچ کر تقدیر میری من کے مطابق نہیں ہوئی دیکھی ہے اک لکیر کئی بار کھینچ کر یاد آئے گا تمہیں یہ سفر میں کئی جگہ آنکھوں میں تم سمیٹ لو گھر بار کھینچ کر
pheinki hai fath-yaab ne dastaar khinch kar





