SHAWORDS
Om Bhutkar Maghloob

Om Bhutkar Maghloob

Om Bhutkar Maghloob

Om Bhutkar Maghloob

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

niind ko niind aae jaati hai

نیند کو نیند آئے جاتی ہے رات مجھ کو جگائے جاتی ہے ایک لڑکی جو مر گئی کب کی وہ ابھی تک بلائے جاتی ہے ہر طرح ریت ہے جو صحرا کی نام بارش بتائے جاتی ہے آئی تو تھی وہ گل کھلانے کو اور کیا گل کھلائے جاتی ہے کمرہ اندر سے بند کر کے وہ قید جگ کو کرائے جاتی ہے دن امیدوں کو چھین لیتا ہے رات سپنے دکھائے جاتی ہے میں حقیقت بتائے جاتا ہوں وہ کہانی سنائے جاتی ہے میں بھی اب گھر میں کم ہی جاتا ہوں ماں بھی عادت بنائے جاتی ہے

غزل · Ghazal

shaam kaa intizaar kartaa huun

شام کا انتظار کرتا ہوں میں اندھیرے سے پیار کرتا ہوں میری منحوس بات مت ٹالو غافلو ہوشیار کرتا ہوں رو کے دم لے کے پھر سے رو دینا بس یہی بار بار کرتا ہوں رات بھر ہنس کے رات تک روؤں جو کروں بے شمار کرتا ہوں تیرے دل کو قرار ہے کب سے آ ادھر بے قرار کرتا ہوں بے وفائی کو رکھو ایک طرف عشق میں شاندار کرتا ہوں یہ جو مغلوبؔ تیرا گھر ہے نا آج اس کو مزار کرتا ہوں

غزل · Ghazal

chaahe jiinaa bhaari hai

چاہے جینا بھاری ہے مرنا اک غداری ہے آگ لگا دے دنیا کو دل میں گر چنگاری ہے تیری شہرت ہفتہ بھر میری لمبی پاری ہے کونا تنہائی اندھیر اپنی گہری یاری ہے تیرے نام کی اب گھر میں اک خالی الماری ہے مرگھٹ کے اے بوڑھے پیڑ کیا تو میری سواری ہے حال مرا پوچھا تو کہہ ایک قیامت جاری ہے

غزل · Ghazal

sab ko khud se bachaa rahaa huun main

سب کو خود سے بچا رہا ہوں میں اپنا نقشہ مٹا رہا ہوں میں دل کا تیرے ہوا میں جان جاں پرزہ پرزہ اڑا رہا ہوں میں یا سجاتا ہوں تیری ڈولی یا اپنی میت سجا رہا ہوں میں تاکہ پھر شعر کا دھماکہ ہو روز بارود کھا رہا ہوں میں دل کے میں نے بڑھائے دام بہت جان سستی بنا رہا ہوں میں ڈھونگ ہے یہ مری نئی الفت اب بھی وعدہ نبھا رہا ہوں میں بات منحوس اک سنانے کو پہلے اچھی سنا رہا ہوں میں عید دیوالی ہو کہ بیساکھی جشن اردو منا رہا ہوں میں تنگ آیا ہٹا کے کانٹوں کو اب تو رستا ہٹا رہا ہوں میں اب تو دیتے نہیں غلامی بھی دور تھا اک خدا رہا ہوں میں آگ لگنے کی چاہ سے ہی تو شمع گھر میں جلا رہا ہوں میں اب ترا زہر پھیلے باہر بھی اب تو مغلوبؔ جا رہا ہوں میں

غزل · Ghazal

be-qaraari ko be-qaraari hai

بے قراری کو بے قراری ہے کس کے گھر جاؤں کس کی باری ہے ساری دنیا کا دل دکھانے کی جان من تیری ذمہ داری ہے دل پھر اپنا انہیں کو دے بیٹھے موت کا انتظام جاری ہے حکم ہوتے ہی میں اچھلتا ہوں ساری دنیا مری مداری ہے میں کسی کو نظر نہیں آتا کس نے میری نظر اتاری ہے چیخ جو نئیں ابھی سنائی دی سن لو مغلوبؔ وہ تمہاری ہے

غزل · Ghazal

mujh ko us raste par chalnaa hotaa hai

مجھ کو اس رستے پر چلنا ہوتا ہے جس پہ اندھیرا خوب اندھیرا ہوتا ہے ساتھ رہیں گے کہہ کر حوصلہ دیتے ہیں آخر ان کو بھی گھر جانا ہوتا ہے جب آتا ہے ہوش ہمیں کیا کرنا ہے ہاتھ میں عمر کا آدھا حصہ ہوتا ہے بیگم شوہر اجڑے اجڑے لگتے ہیں آخر کس نے کس کو لوٹا ہوتا ہے دل پونے سے ممبئی تک بھی جائے تو رستے میں دلی کلکتہ ہوتا ہے ورزش کرتا اچھا کھاتا پیتا ہے وہ بھی اک دن مرنے والا ہوتا ہے مرنے کو ہوں راضی میرے مرنے پر دیکھوں کس کا الو سیدھا ہوتا ہے جھوٹ سے اپنی جان بچا پاتا لیکن دیوانہ آخر دیوانہ ہوتا ہے اول اول کا سیدھا سادہ رشتہ آخر آخر میں پیچیدہ ہوتا ہے ایک خدا ہے ایک خدا بس ایک خدا یعنی وہ بھی تنہا تنہا ہوتا ہے

Similar Poets