Om Prakash Laghar
Om Prakash Laghar
Om Prakash Laghar
Ghazalغزل
jab use gardish-e-ayyaam ne maaraa hogaa
جب اسے گردش ایام نے مارا ہوگا اے مصیبت میں کسے اس نے پکارا ہوگا عزم و ہمت ہی سے قسمت کو سنوارا جائے ایک مولا ہے تو کس کس کا سہارا ہوگا سوئے کشتی جو یہ طوفان بڑھا آتا ہے عزم و ہمت کے لئے اس میں کنارا ہوگا پھول تو پھول ہیں کانٹوں سے لپٹ جاتا ہوں یہ سمجھ کر کہ مجھے تیرا نظارہ ہوگا اب نہ ساحل کی طلب ہے نہ کناروں کی تلاش ڈوب جائیں گے جہاں وہ ہی کنارا ہوگا میں بھلا تیرا پتہ دیر و حرم سے پوچھوں جذبۂ عشق کو یہ کیسے گوارا ہوگا تم تو پژمردہ غم خار میں ہو اے لاغرؔ پھول مرجھائے تو کیا حال تمہارا ہوگا
muqaddar ki kyon ham shikaayat karein
مقدر کی کیوں ہم شکایت کریں جو مل جائے اس پر قناعت کریں خرد بے عمل بے یقیں کم نظر جہاں میں جنوں کی حمایت کریں مناسب ہے اصلاح اپنی ہمیں نہ اوروں کو ہرگز ہدایت کریں ہر اک سے محبت ہر اک پر کرم نہ ہرگز کسی سے عداوت کریں گلستاں کو بخشیں نئی زندگی گل و نسترن کی حفاظت کریں بتوں کا اگر فیض درکار ہے تو سینے میں پیدا حرارت کریں رکھیں بغض و کینہ سے دل پاک صاف نہ دیر و حرم کی زیارت کریں جوانو اٹھو نوجوانو اٹھو ستم کے خلاف اب بغاوت کریں بشر سے ہے لاغرؔ محبت اگر نہ بے شک خدا کی عبادت کریں
sataaish se hote nahin shaadmaan
ستائش سے ہوتے نہیں شادماں ملامت سے ہم تلملاتے نہیں ہو خوف خدا جن کے دل میں بسا وہ ہرگز کسی کو ستاتے نہیں گناہوں سے دامن بچاتے ہیں ہم عبادت میں گو سر جھکاتے نہیں نہ ہم رہنما ہیں نہ ہم راہبر غلط راہ لیکن بتاتے نہیں عبادت سے پاتے ہیں ہم وہ سرور جو مینا و ساغر سے پاتے نہیں ہے آنکھوں سے پینے کی خواہش ہمیں مگر وہ نظر تک ملاتے نہیں محبت میں ہم کھائے بیٹھے ہیں مات مگر اشک لاغرؔ بہاتے نہیں
kisi manzil pe bhi zulm-o-sitam se Dar nahin saktaa
کسی منزل پہ بھی ظلم و ستم سے ڈر نہیں سکتا کہ میں سجدہ کبھی باطل کے آگے کر نہیں سکتا یہ مانا لفظ میں اظہار کی قوت تو ہوتی ہے مگر حق و حقیقت کو بیاں یہ کر نہیں سکتا اسے اخلاق اور تہذیب کا کیوں درس دیتے ہو شکم جو آدمی نان جویں سے بھر نہیں سکتا اسیر آرزو رہتا ہے جو انسان دنیا میں سکون دل کسی صورت وہ حاصل کر نہیں سکتا فدا جو مغربی تہذیب پر ہیں جان جائیں گے دیا مغرب کا مشرق کو منور کر نہیں سکتا بھروسہ دل سے ہے لاغرؔ جسے اس کی عنایت پر وہ انساں اہل دنیا پر بھروسہ کر نہیں سکتا
jo zamaane ko bahar-kaif daghaa dete hain
جو زمانے کو بہر کیف دغا دیتے ہیں کیا تماشہ ہے وہی درس وفا دیتے ہیں زندگی بوجھ ہے یہ بوجھ اٹھانا ہے محال پھر بھی محسن مجھے جینے کی دعا دیتے ہیں خون دل خون جگر کس پہ لٹائے کوئی اپنے اپنوں ہی کو جب غیر بنا دیتے ہیں لالہ و گل سے میں منزل کا پتہ کیوں پوچھوں راہ کے خار ہی جب راہ بتا دیتے ہیں وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے دنیا کی نظر وقت اچھا ہو تو دشمن بھی دعا دیتے ہیں خیر گزری رہ ہستی میں ہیں لاغرؔ تنہا لوگ کہتے ہیں کہ رہبر بھی دغا دیتے ہیں
zindagi jaate jaate ye kyaa kah gai
زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئی موت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئی کوئی بھی سخت جاں تجھ سا دیکھا نہیں جاتے جاتے مجھے ہر بلا کہہ گئی جو زباں نے کہی وہ ادھوری رہی بات پوری مری خامشی کہہ گئی مسکرائے ادھر وہ مرے حال پر اشک بن کر ادھر آرزو بہہ گئی کوچ سوئے عدم ہر مکیں کر گیا اور حویلی کھڑی کی کھڑی رہ گئی جو بھی خوبی تھی لاغرؔ تری ذات میں تنگ دستی کے سیلاب میں بہہ گئی





