SHAWORDS
Onkar Singh Vivek

Onkar Singh Vivek

Onkar Singh Vivek

Onkar Singh Vivek

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

لطف کیا آئے گا شرافت میں آپ اب آ گئے سیاست میں تھی جو مصروفیت ہمیں تھوڑی آپ بھی کب تھے یار فرصت میں پھر سے تاریخ مل گئی اگلی آج بھی یہ ہوا عدالت میں آپ پوچھیں نہ تو ہی بہتر ہے کتنے دھوکے ملے شرافت میں ہو گئی موت سنتے ہیں کل بھی ایک معصوم کی حراست میں ہو گیا گفتگو سے اندازہ کون رہتا ہے کیسی صحبت میں

lutf kyaa aaegaa sharaafat mein

1 views

غزل · Ghazal

کچھ میٹھا کچھ کھارا پن ہے کیا کیا سواد لیے جیون ہے کیسے آنکھ ملا کر بولے صاف نہیں جب اس کا من ہے شکوہ بھی ان سے ہی ہوں گے جن سے تھوڑا اپنا پن ہے دھن ہی دھن ہے اک طبقے پر اک طبقہ بے حد نردھن ہے سوکھا ہے تو باڑھ کہیں پر برسا یہ کیسا ساون ہے کل نشچت ہی کام بنیں گے آج بھلے ہی کچھ اڑچن ہے دل کا ہے وہ صاف بھلے ہی لہجے میں کچھ کڑوا پن ہے

kuchh miThaa kuchh khaaraa-pan hai

غزل · Ghazal

اگر کچھ سرگرانی دے رہی ہے خوشی بھی زندگانی دے رہی ہے چلو مستی کریں خوشیاں منائیں سدا یہ رت سہانی دے رہی ہے بڑھاپے کی ہے دستک ہونے والی خبر ڈھلتی جوانی دے رہی ہے گزر آرام سے ہو پائے اتنا کہاں کھیتی کسانی دے رہی ہے پھلیں پھولیں نہ کیوں نفرت کی بیلیں سیاست کھاد پانی دے رہی ہے سدا سچائی کے رستے پے چلنا سبق بچوں کو نانی دے رہی ہے تخیل کی ہے بس پرواز یہ تو جو غزلوں کو روانی دے رہی ہے

agar kuchh sargiraani de rahi hai

غزل · Ghazal

عاجزی تو ہے نہیں گفتار میں کون پوچھے گا ہمیں دربار میں نفسیاتی نقص ہے دوچار میں ورنہ ہے سب کا عقیدہ پیار میں سنگ رکھتا ہے اسے جو یہ گلاب کچھ تو دیکھا ہوگا آخر خار میں بارہا روتا ہے دل یہ سوچ کر بن کٹے گا شہر کے وستار میں پوچھنے آئے تھے میری خیریت دے گئے غم اور وہ اپہار میں میرؔ غالبؔ ذوقؔ سب کا شکریہ رنگ کیا کیا بھر گئے اشعار میں بیٹھا ہے پردیس میں لخت جگر کیا خوشی ماں کو ملے تیوہار میں

'aajizi to hai nahin guftaar mein

غزل · Ghazal

کام کا بھی ٹھکانا نہیں ہے اور گھر میں بھی دانہ نہیں ہے جانتے ہیں سزا ہی وہ دیں گے جرم تو کچھ بتانا نہیں ہے کہہ رہی ہے ہنک بادلوں کی دھوپ نے منہ دکھانا نہیں ہے خوں جگر کا جلائے بنا کچھ رنگ شعروں میں آنا نہیں ہے آزمائش میں رکھتے ہو کتنی یار یہ دوستانہ نہیں ہے گڑھ ہی لیں گے وہ سو سو بہانے جن کو ملنا ملانا نہیں ہے زیست میں حوصلوں نے ہمارے دبدبہ غم کا مانا نہیں ہے

kaam kaa bhi Thikaanaa nahin hai

غزل · Ghazal

منہ پر تو کتنا رس گھولا جاتا ہے پیچھے جانے کیا کیا بولا جاتا ہے ہوتا تھا پہلے معیار کبھی ان کا اب رشتوں کو دھن سے تولا جاتا ہے مل جاتی ہے ایک نئی اچھا اس میں من کو جتنی بار ٹٹولا جاتا ہے مل جاتے ہیں سکھ دکھ دونوں ہی اس میں جب یادوں کا بکسا کھولا جاتا ہے آپ سیاست داں ہیں خوب سمجھتے ہیں بدلا کیسے ہر دن چولا جاتا ہے دھیان سبھی کا دیکھا خود پر تو جانا چپ رہ کر بھی کتنا بولا جاتا ہے ہر دم تو خاموشی اوڑھ نہیں سکتے وقت ضرورت منہ بھی کھولا جاتا ہے

munh par to kitnaa ras gholaa jaataa hai

Similar Poets