Owais Jamal Shamsi
Owais Jamal Shamsi
Owais Jamal Shamsi
Ghazalغزل
پھیکے پڑ گئے سارے چہرے رنگ رنگیلے کپڑوں میں محفل میں وہ شوخ جب آیا سج کر پیلے کپڑوں میں چست لباسی میں بھی اکثر جسم سہانے لگتے ہیں لیکن میرے دل کو بھائے وہ تو ڈھیلے کپڑوں میں یوں تو جس حالت میں آؤ مجھ کو اچھے لگتے ہو کاش کبھی برسات میں آؤ وہ بھی گیلے کپڑوں میں کالے سبز گلابی دھانی تم پر سب رنگ جمتے ہیں لیکن اور غضب ڈھاتی ہو جانم نیلے کپڑوں میں سورج نے بھی شرم کے مارے گھونگھٹ اوڑھا بدلی کا دھوپ ٹانکنے جب وہ آئے چھت پر سیلے کپڑوں میں میرے گھر میں نور خدا کی ہر دم بارش کرتا تھا دادی کا نورانی پیکر سادہ ڈھیلے کپڑوں میں
phike paD gae saare chehre rang-rangile kapDon mein
حال دل تحریر ہونے کا سمے نزدیک ہے خون میں خنجر ڈبونے کا سمے نزدیک ہے دل کے چینل پر ہے جاری آرزو کا سیریئل آپ کہتے ہیں کہ سونے کا سمے نزدیک ہے حق نوائی کے لیے تیار ہے میری زباں دوستوں سے دور ہونے کا سمے نزدیک ہے دفعتاً پلکوں کے دروازے ہوئے ہیں بند کیوں غالباً موتی پرونے کا سمے نزدیک ہے آنکھ اٹھی چہرہ کھلا وہ مسکرائے لب ہلے آنسوؤں کے داغ دھونے کا سمے نزدیک ہے نامکمل فائلیں دسیوں پڑی ہیں میز پر اور دفتر بند ہونے کا سمے نزدیک ہے بارش الطاف سے دل کی زمیں نم ہے جمالؔ اب غزل کے بیج بونے کا سمے نزدیک ہے
haal-e-dil tahrir hone kaa samay nazdik hai
نہ خود کو تلخ کلامی کے امتحان میں رکھ ابھی سے شہد صفت ذائقہ زبان میں رکھ نہ اعتماد کے خنجر کو آستیں سے نکال تو میرا دوست ہے مجھ کو اسی گمان میں رکھ پرائے پیڑ کا سایہ نہ راس آئے گا مرے وجود کو میرے ہی سائبان میں رکھ حویلیوں کی خموشی پہ غور کرنا ہے کچھ اور جگنو بھی پلکوں کے آسمان میں رکھ تو اپنی سوچ کو آزادیاں دے اپنی طرح اصول فکر و نظر دست پاسبان میں رکھ اویسؔ اشک فشانی بھی ٹھیک ہے لیکن کچھ اور بات محبت کی داستان میں رکھ
na khud ko talkh-kalaami ke imtihaan mein rakh
آنکھوں میں جب سے روح بصارت نہیں رہی خوابوں کو بھی لباس کی حاجت نہیں رہی وہ پیار وہ خلوص وہ چاہت نہیں رہی پہلی کی بھائیوں میں محبت نہیں رہی تو بھی فریب ذات سے باہر نہ آ سکا مجھ میں بھی اعتماد کی طاقت نہیں رہی اچھا کیا ہے آپ نے دل میرا توڑ کر آئینہ توڑنے کی ضرورت نہیں رہی سڑکوں نے پہن رکھا ہے صحراؤں کا لباس لگتا ہے اب لہو کی تجارت نہیں رہی دل زخم زخم ہو گیا مدت ہوئی جناب گلدان کو گلوں کی ضرورت نہیں رہی جذبے بغاوتوں میں ہوئے کامیاب اویسؔ اب شہر دل پر ان کی حکومت نہیں رہی
aankhon mein jab se ruh-e-basaarat nahin rahi
شعور ذات کا آہو مرے وجود میں ہے کسی کے پیار کی خوشبو مرے وجود میں ہے اب اپنی ذات کا عرفان ہو گیا ہے مجھے تری نگاہ کا جادو مرے وجود میں ہے میں اپنے جسم کی خوشبو سے مست رہتا ہوں عروس لالہ و گل تو مرے وجود میں ہے کہاں میں اور کہاں فکر شاعری جاناں کوئی نہ کوئی سخن جو مرے وجود میں ہے نگاہ شوق سے تکتا ہے آئنہ مجھ کو مجھے یقیں ہے وہ مہ رو مرے وجود میں ہے مجھے بھی شبنمی صبحیں سہانی لگتی ہیں جو تو نہیں تو تری خو مرے وجود میں ہے ازل سے تار نفس تولتا رہا ہوں اویسؔ حساب جاں کا ترازو مرے وجود میں ہے
shu'ur-e-zaat kaa aahu mire vujud mein hai





