SHAWORDS
Ozair Yusuf

Ozair Yusuf

Ozair Yusuf

Ozair Yusuf

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

مری نظر کا شرر اپنا کام کرنے لگا بجھا چراغ مرے دیکھنے سے جلنے لگا ذرا سی روشنی اٹھی تھی میرے پہلو سے پھر ایک سایہ مرے ساتھ ساتھ چلنے لگا یہ جس طرح سے دکھاتا ہے خال و خد میرے مرا وجود ترے آئنے سے ڈرنے لگا وہی نشاں جو مجھے کھینچتا تھا اپنی طرف میں چل پڑا تو وہ اپنی جگہ بدلنے لگا ازل ابد کے کناروں میں کھینچا تانی ہوئی ردائے وقت پہ جب میرا ہاتھ پڑنے لگا عزیرؔ چھوڑ کے میری گھڑی کلائی پر مرا یہ وقت مرے ہاتھ سے پھسلنے لگا

miri nazar kaa sharar apnaa kaam karne lagaa

غزل · Ghazal

گیا نہیں تھا جہاں سے میں ہو کے آیا تھا ترے خیال نے جانے کہاں بلایا تھا تری تلاش میں بھٹکا تو یاد آنے لگا وہ ایک گھر جو ترے واسطے بنایا تھا میں گھورتا ہوں بجھا کر دیا سلائی کو کہ بھولتا ہوں اسے کس لیے جلایا تھا تری خموشی ادھر مسئلہ بنی ہوئی تھی اداسیوں نے ادھر بھی قدم جمایا تھا وہ روشنی جو بدن سے نہیں گزرتی تھی اسی نے سائے کو دیوار سے لگایا تھا وہی اداسی مرے ساتھ ساتھ چلتی ہے تری نظر سے جو آنکھوں میں بھر کے لایا تھا

gayaa nahin thaa jahaan se main ho ke aayaa thaa

غزل · Ghazal

اندر بھی تھا خلا سو خلا دیکھتا رہا میں آسماں کی سمت کھڑا دیکھتا رہا اک میں کہ دیکھتا رہا اس میں خدا کو اور اک اور شخص مجھ میں خدا دیکھتا رہا میری نشست اس سے ذرا دور تھی مگر میں اس کے ساتھ خالی جگہ دیکھتا رہا آنکھوں میں اس قدر تھی مرے تیرگی کہ میں جلتے ہوئے دیے کو بجھا دیکھتا رہا اندر پرانے زخم کی صورت بگڑ گئی میں چہرہ آئنے میں کھڑا دیکھتا رہا کچھ اور دیکھنے کو نہیں تھا کہ دیکھتا سو وقت کو گزرتا ہوا دیکھتا رہا وہ مجھ سے پوچھتا رہا کیسے ہو تم عزیرؔ اور میں ہوا میں جلتا دیا دیکھتا رہا

andar bhi thaa khalaa so khalaa dekhtaa rahaa

غزل · Ghazal

مکیں کے ہوتے ہوئے رابطہ مکاں سے ہوا مکالمہ جو ہوا بھی تو بے زباں سے ہوا میں اس کی سمت جو نکلا تو کچھ نہیں تھا وہاں وہیں کھڑا تھا اشارہ مجھے جہاں سے ہوا تمہارے بعد بدن میں تلاش کرتا ہوں میں اپنے آپ میں خالی کہاں کہاں سے ہوا میں اپنے قاعدے قانون لے کے آیا ہوں وہ نصف نصف نہیں جو بھی درمیاں سے ہوا تلاش کرتے پھرے ہم سفر عزیرؔ مجھے کچھ اس طرح میں جدا گرد کارواں سے ہوا

makin ke hote hue raabta makaan se huaa

غزل · Ghazal

کھینچ کر تو لے گیا ہے جس طرف بنتا نہیں تو یقیناً بات میری ٹھیک سے سمجھا نہیں میری چپ کی گفتگو کو سننے والے چپ رہے اور بھی کچھ بولنا تھا اور میں بولا نہیں عمر ساری کٹ گئی دونوں کی دروازے کے پاس میں نے دستک دی نہیں اور اس نے در کھولا نہیں تیرے رستے میں پڑا تھا ایک پتھر کی طرح پھر تری ٹھوکر لگی اور میں کہیں ٹھہرا نہیں اک جگہ پر چھوڑ کر خود کو میں آگے چل دیا اور پھر میں واپسی پر اس جگہ پر تھا نہیں روبرو میرے وہی ہے چار سو میرے وہی ایک مدت سے جو میرے سامنے آیا نہیں سانحے کی اور کیسی شکل ہوتی ہے عزیرؔ اس نے دل پہ ہاتھ رکھا اور دل دھڑکا نہیں

khinch kar tu le gayaa hai jis taraf bantaa nahin

Similar Poets