SHAWORDS
Paikar Jafari

Paikar Jafari

Paikar Jafari

Paikar Jafari

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

چراغ دل جلایا کس لئے ہے شام سے پہلے خوشی اچھی نہیں ہے عشق میں انجام سے پہلے گزرنا تو شب فرقت کا یا رب غیر ممکن ہے تڑپنا دل کا کہتا ہے نمود شام سے پہلے حدود محفل عشرت میں رکھیں گے قدم اک دن ذرا مانوس تو ہو لیں غم آلام سے پہلے مجھے ساقی سے الفت ہے نہیں ساغر کا شیدائی اٹھا جاتا ہوں خود محفل سے دور جام سے پہلے ڈھلا دن اور مرے دل کی بڑھیں بے چینیاں پیکرؔ جگر کو تھام لیتا ہوں میں درد شام سے پہلے

charaagh-e-dil jalaayaa kis liye hai shaam se pahle

1 views

غزل · Ghazal

کہاں کہاں لئے پھرتی ہے آرزو مجھ کو تھکائے ڈالتی ہے تیری جستجو مجھ کو ہوا جو چاک گریباں تو ہو گئے رسوا اسی میں آج بھی بہلا گیا رفو مجھ کو نگاہ ناز تری التفات کے صدقے نہ کوئی شیشہ نہ اب چاہئے سبو مجھ کو نہ بات پھیلتی قاتل بھی صاف بچ جاتا وہ کہئے رنگ گیا ہے مرا لہو مجھ کو غم حیات نے سب دل کے راز کھولے ہیں بڑی عزیز تھی پیکرؔ یہ آبرو مجھ کو

kahaan kahaan liye phirti hai aarzu mujh ko

1 views

غزل · Ghazal

یوں تو محروم کوئی بزم میں مے خوار نہیں ہاں مگر میری طرف چشم فسوں کار نہیں ناصحا میں بھی تری طرح نہ بکتا کیا کیا وہ تو کہیے کہ میں دیوانہ ہوں ہشیار نہیں حسن رنگیں کے تصور نے جلا دیں شمعیں ہر طرف نور برستا رہے شب تار نہیں مرنے والے کی محبت کے تھے منکر کل تک آج اقرار ہی اقرار ہے انکار نہیں لیجئے لیجئے وہ ڈوب گئی نبض مریض آئیے آئیے اب آپ کا بیمار نہیں اس نے ٹھکرا دیا صد حیف یہ کہہ کر پیکرؔ ایک ٹوٹے ہوئے دل کا میں خریدار نہیں

yuun to mahrum koi bazm mein mai-khvaar nahin

1 views

غزل · Ghazal

نظر کو وقف غم انتظار کر نہ سکے خود اپنی ذات پہ ہم اعتبار کر نہ سکے نظر اٹھی تو گلوں تک ہی رہ گئی محدود نظر کو مائل رنگ بہار کر نہ سکے فریب حسن سے اس کو نہ کیوں کروں تعبیر زباں سے کہتے رہے دل سے پیار کر نہ سکے قفس میں آیا تو موسم بہار کا لیکن نگاہ شوق کو وقف بہار کر نہ سکے حریم ناز کے پردے اٹھے مگر پیکرؔ جنوں کے مارے ہی خود انتظار کر نہ سکے

nazar ko vaqf-e-gham-e-intizaar kar na sake

1 views

غزل · Ghazal

سوز دل سوز جگر سوز الم پایا ہے جو بھی پایا ہے ترے عشق میں کم پایا ہے سر جھکا جاتا ہے ہر گام پہ سجدے کے لئے ہر جگہ جیسے ترا نقش قدم پایا ہے جتنا جی چاہے مرے حال پہ دنیا ہنس لے میں نے حصے میں فقط رنج و الم پایا ہے پھول ہنستے ہیں تو روتی ہے چمن میں شبنم اک نے پائی ہے خوشی ایک نے غم پایا ہے کھل گیا راز ترے درد نہاں کا پیکرؔ آج آنکھوں میں تری اشک الم پایا ہے

soz-e-dil soz-e-jigar soz-e-alam paayaa hai

غزل · Ghazal

یوں بھی نباہ ہم نے کیا زندگی کے ساتھ اک اجنبی ہو جیسے کسی اجنبی کے ساتھ اب کے بہار آئی تو اس دل کشی کے ساتھ کانٹے بھی مسکرائے گلوں کی ہنسی کے ساتھ ہر غم قبول ہم نے کیا ہے خوشی کے ساتھ وابستہ یوں ہوئے ہیں تیری برہمی کے ساتھ دل کو جلا کے گرم کیا ایسے بزم کو جیسے کوئی چراغ جلے روشنی کے ساتھ تجدید آؤ پھر کریں عہد وفا کی آج آؤ قدم ملا کے چلیں دوستی کے ساتھ اتنی تو ہے ہمیں بھی توقع سلوک کی اک آدمی جو کرتا ہے اک آدمی کے ساتھ میری نظر بھی جاتی ہے کچھ سرخیوں کی سمت آتا ہے جب بھی نام کسی کا کسی کے ساتھ سنتے ہیں میکشوں میں بڑی برہمی سی ہے ساقی پلا رہا ہے مگر بے رخی کے ساتھ کوئی شکن جبین سخاوت پہ آ نہ جائے دامن کو میرے دیکھ نہ دریا دلی کے ساتھ نالہ کناں ہیں لمحے قیام و سجود کے پیکرؔ نماز پڑھ نہ سکے آگہی کے ساتھ

yuun bhi nibaah ham ne kiyaa zindagi ke saath

Similar Poets