SHAWORDS
Paikar Yazdani

Paikar Yazdani

Paikar Yazdani

Paikar Yazdani

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

صورت کے تو اچھے لوگ لیکن دل کے کالے لوگ ان سے اپنا رشتہ کیا وہ ٹھہرے ہیں اونچے لوگ دیکھے ہیں سجدہ کرتے اپنی انا کو ہم نے لوگ آج مسیحا بن بیٹھے گونگے بہرے اندھے لوگ ہر گھر کی مجبوری ہیں کچھ پونے کچھ آدھے لوگ تیری بات کو مانیں گے پیکرؔ دھیرے دھیرے لوگ

surat ke to achchhe log

1 views

غزل · Ghazal

گزرے ہے دل پہ جو وہ کہیں کیا کسی سے ہم اپنوں میں ہو کے رہ گئے اک اجنبی سے ہم اس واقعہ کا تجزیہ کرنا محال ہے سہمی ہوئی ہے ہم سے خوشی یا خوشی سے ہم رہنے لگے خفا خفا سورج بھی چاند بھی مانوس کیا ہوئے ہیں کسی روشنی سے ہم دن دن ہے رات رات ہے یہ جاننے کے بعد کیسے نباہ کرتے بھلا تیرگی سے ہم جانا ہے اس مقام پہ رستہ کٹھن سہی لائیں جو انقلاب کوئی شاعری سے ہم پیکرؔ ہماری شان کے قطعاً خلاف ہے آنکھیں چرا چرا کے جئیں زندگی سے ہم

guzre hai dil pe jo vo kahein kyaa kisi se ham

1 views

غزل · Ghazal

کنکر کہہ نہ پتھر کہہ گوہر ہے تو گوہر کہہ پیچھے غیبت ہوتی ہے جو کہنا ہے منہ پر کہہ پتھر ڈھونے والے کو کائنات کا محور کہہ چیخے قومی یکجہتی حق پر ہو جو حق پر کہہ لہجہ قاتل ٹھہرے گا کڑوی بات کو ہنس کر کہہ مستقبل کی فکر بھی رکھ حال کا حال بھی کھل کر کہہ بھڑک اٹھیں جس سے جذبات ایسی بات نہ پیکرؔ کہہ

kankar kah na patthar kah

1 views

غزل · Ghazal

ہنستے ہنستے کہہ دی بات تم نے آخر کڑوی بات میرے لئے پتھر کی لکیر کانپ کے منہ سے نکلی بات برسوں بعد بھی لگتا ہے جیسے ہو کل ہی کی بات پل میں لہجہ بدل گیا دیکھی تم نے اس کی بات آنکھوں میں چہرہ ان کا دل میں اک اک ان کی بات پیکرؔ ایسا جھوٹ نہ بول لگنے لگے جو سچی بات

hanste hanste kah di baat

1 views

غزل · Ghazal

نہیں اپنے تو بیگانے بہت ہیں جہاں میں آئنہ خانے بہت ہیں پریشاں کیوں ہو میرے ہم رکابو مرے غم کو مرے شانے بہت ہیں زمانہ بھر کی حجت کے مقابل فقط تسبیح کے دانے بہت ہیں ابھی سے آپ ہمت ہار بیٹھے ابھی الزام سر آنے بہت ہیں ہمیں رکھا ہے کس درجے میں صاحب سنا ہے آپ کے خانے بہت ہیں کسی کو شام کی ہے فکر لاحق کسی کو شوق فرمانے بہت ہیں اسی کا نام پیکرؔ زندگی ہے مراحل سامنے آنے بہت ہیں

nahin apne to begaane bahut hain

غزل · Ghazal

جیسا سنا تھا ویسا ہے وہ مجھ سے بھی اچھا ہے پیار کی باتیں کرتا ہے شاید کوئی پگلا ہے اس کی بات نہ رد ہوگی اس کے پاس تو پیسہ ہے میرے دشمن کا لہجہ آم کے جیسا میٹھا ہے اپنی منزل دور نہیں میل کا پتھر کہتا ہے غیروں جیسی بات نہ کر تو تو میرا اپنا ہے آگ اور پانی کا رشتہ کیا پیکرؔ ہو سکتا ہے

jaisaa sunaa thaa vaisaa hai

Similar Poets