
Pallavi Mishra
Pallavi Mishra
Pallavi Mishra
Ghazalغزل
اسے محبت ہے ہم سے لیکن کبھی زباں سے کہا نہیں ہے نگاہ پڑھنے میں ہم ہیں ماہر اسے یہ شاید پتا نہیں ہے قدم تلے ہے زمین غائب کہیں پہ چھت کا پتا نہیں ہے یہ بھید کیوں ہے سمجھ سکے جو ابھی تلک تو ملا نہیں ہے گزر رہی زندگی یہ کیسی جو پوچھتے ہو تو کیا بتاؤں خدا سے مجھ کو گلہ نہیں ہے مگر جو چاہا ملا نہیں ہے وہ کہہ رہا ہے کہ جان اپنی ہماری خاطر لٹا سکے گا ہے کون جس نے وفا میں یہ سب کہا نہیں یا سنا نہیں ہے نہ زندگی سے مجھے گلہ ہے نہ زندگی سے تجھے گلہ ہے مگر الگ اس طرح سے جینا تمہیں کہو کیا سزا نہیں ہے کسی کو مانگے بنا ملے سب کسی کی جھولی رہے ہے خالی کہ اس کے پیچھے خدا کی منشا ہے کیا کسی کو پتا نہیں ہے کہ مشکلوں سے ڈرو نہیں اور کام ہمت سے لو ہمیشہ تبھی سپھلتا ملے گی اک دن یہ سچ کسی سے چھپا نہیں ہے
use mohabbat hai ham se lekin kabhi zabaan se kahaa nahin hai
نفرت کی آگ جلنے لگی تیرے شہر میں یہ بات آج کھلنے لگی تیرے شہر میں جو آشنا تھے کل مرے سب گم کہاں ہوئے ہجرت کی چاہ پلنے لگی تیرے شہر میں مرنے کا مارنے کا یہ کیا دور آ گیا جینے کی آس ٹلنے لگی تیرے شہر میں میرا یہاں سے ٹھور ٹھکانہ اجڑ گیا آندھی عجیب چلنے لگی تیرے شہر میں ہر دل میں کون بھرنے لگا دشمنی یہاں شفقت بھی ہاتھ ملنے لگی تیرے شہر میں قدرت خفا ہوئی نہ کہیں لائے زلزلہ کروٹ زمیں بدلنے لگی تیرے شہر میں کالی گھٹا کی قید میں وہ کب تلک رہے اب چاندنی مچلنے لگی تیرے شہر میں
nafrat ki aag jalne lagi tere shahr mein





