SHAWORDS
Pankaj Subeer

Pankaj Subeer

Pankaj Subeer

Pankaj Subeer

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

abhi samjhaaein kyaa tum ko abhi tum ishq mein ho

ابھی سمجھائیں کیا تم کو ابھی تم عشق میں ہو ابھی تو بس دعائیں لو ابھی تم عشق میں ہو بھلے اپنے ہی گھر جانا ہے پر بھولو گے رستہ کسی کو ساتھ میں رکھو ابھی تم عشق میں ہو نہیں مانے گا کوئی بھی برا بالکل ذرا بھی ابھی تم چاہے جو کہہ دو ابھی تم عشق ہو کوئی سمجھا بجھا کے راہ پر پھر لے نہ آئے کسی کے پاس مت بیٹھو ابھی تم عشق میں ہو تمہارے ہاتھ میں جلتی رہے سگریٹ مسلسل کلیجے کو ذرا پھونکو ابھی تم عشق میں ہو وہ پرسوں بھی نہیں آیا نہیں آیا وہ کل بھی گنو مت راستہ دیکھو ابھی تم عشق میں ہو

غزل · Ghazal

tumhaaraa gham na ho to zindagi achchhi nahin lagti

تمہارا غم نہ ہو تو زندگی اچھی نہیں لگتی خموشی سے بہے جو وہ ندی اچھی نہیں لگتی پڑے ہو عشق میں تو عشق کی تہذیب بھی سیکھو کسی عاشق کے چہرے پر ہنسی اچھی نہیں لگتی یہ من کرتا ہے بادل آ کے ڈھک لیں چاند کو پورا ہوں جب وہ پاس تو پھر چاندنی اچھی نہیں لگتی کہا اس نے ہمیں کب وصل سے انکار ہے لیکن خلش سینے میں اس کے بعد کی اچھی نہیں لگتی عجب ہے بات حیرت کی ہماری شکل یہ ان کو کبھی لگتی ہے اچھی اور کبھی اچھی نہیں لگتی لکھی ہیں ساری غزلیں بس اسی کے واسطے میں نے وہی ہاں وہ ہی جس کو شاعری اچھی نہیں لگتی

Similar Poets