SHAWORDS
Parul Singh Noor

Parul Singh Noor

Parul Singh Noor

Parul Singh Noor

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

main kab se dar-ba-dar huun mujh ko dar dikhaa

میں کب سے در بہ در ہوں مجھ کو در دکھا بہت ہوا تو آخر سفر دکھا سنا ہے چوم لو تو زخم بھرتے ہیں ہے دل پہ زخم میرے چوم کر دکھا جسے لحاظ کہہ کے باندھتا ہے تو مجھے تو اس نظر میں محض ڈر دکھا یوں دور دور سے تسلی تو نہ دے گلے لگا لے باہوں کا اثر دکھا بہکنا میرا تیرے ہاتھ میں ہے اب جو مے نہ ہو نگاہ کا ہنر دکھا

غزل · Ghazal

do dil vo sang sang dhaDakte hain aaj bhi

دو دل وہ سنگ سنگ دھڑکتے ہیں آج بھی کھڑکی سے چوری چوری وہ تکتے ہیں آج بھی کہتا ہے کون عشق کے لہجے بدل گئے کنگن کلائیوں میں کھنکتے ہیں آج بھی کرتا ہے کوئی سازشیں ورنہ یوںہی نہیں آنچل گھڑی میں اک دو اٹکتے ہیں آج بھی اتنی ہے پاک عشق کی یہ داستاں سنو آنے میں وہ قریب جھجکتے ہیں آج بھی خوابوں سے اب تلک تری صورت نہیں گئی اٹھ اٹھ کے رات بھر کو سسکتے ہیں آج بھی نیچی نگاہ اٹھتی ہے آتے ہی نورؔ کے یعنی شریف لوگ بہکتے ہیں آج بھی

غزل · Ghazal

gham churaate ro paDe the

غم چراتے رو پڑے تھے ہم ہنساتے رو پڑے تھے جو غزل تھی نام تیرے گنگناتے رو پڑے تھے ہنس رہے تھے کافی دن سے مسکراتے رو پڑے تھے دور سے کہتے تھے خوش ہیں پاس آتے رو پڑے تھے آگ دل کی تھی بجھانی خط جلاتے رو پڑے تھے ہجر میں یہ سب ستارے جھلملاتے رو پڑے تھے بڑھ گیا تھا درد حد سے ہنستے گاتے رو پڑے تھے شہر خوشیاں کھا گیا تھا گاؤں جاتے رو پڑے تھے عشق کا تھا امتحاں وہ آزماتے رو پڑے تھے سوچ کیسا واقعہ تھا دل دکھاتے رو پڑے تھے

Similar Poets