
Parveen Sultana Saba
Parveen Sultana Saba
Parveen Sultana Saba
Ghazalغزل
jab vo mire isbaat se inkaar ko samjhaa
جب وہ مرے اثبات سے انکار کو سمجھا تب ہی تو حقیقت میں مرے پیار کو سمجھا جب ختم تماشہ ہوا تالی تو بجی خوب لیکن نہ کوئی مرکزی کردار کو سمجھا جس وقت عدالت نے بری کر دئیے قاتل تب ذہن رسا نعرۂ دیوار کو سمجھا روٹی بھی کھلائی تو مجھے کاسہ بکف نے باقی نہ کوئی بھوک کی گفتار کو سمجھا یہ روند کے آگے ہی چلی جاتی ہے سب کو گر آپ نے دنیا کی نہ رفتار کو سمجھا وہ دوسری دنیا کا مکیں ہو گیا جا کر جب تک کہ مسیحا مرے بیمار کو سمجھا کر دی لب و رخسار کی لالی نظر انداز تب جا کے کہیں حسن کے معیار کو سمجھا دی داد بہت کھل کے مجھے اہل سخن نے لیکن نہ صباؔ آپ کے اشعار کو سمجھا
vo miraa maujon se laD laD kar ubhar kar dekhnaa
وہ مرا موجوں سے لڑ لڑ کر ابھر کر دیکھنا دوستوں کا دور ساحل سے سمندر دیکھنا ہم کئی صدیاں تمہارے نام پر لکھ جائیں گے تم بھی اک لمحہ ہمارے نام لکھ کر دیکھنا ہو صدف کی چاہ تو تہہ میں اترنا شرط ہے کیا کناروں پر کھڑے یوں ریت پتھر دیکھنا مر مٹے ہو جس کے تم چشم و لب و رخسار پر اس بت کافر کے باطن کا بھی منظر دیکھنا کیسا طوفان حوادث کیا تلاطم کیا بھنور دیکھ لو ان سب کو تم پھر میرے تیور دیکھنا سر نگوں ساحل سے ٹکرا کر پلٹتی موج کے ولولے چاہو تو پھر طوفاں میں رہ کر دیکھنا گردش سیارگاں قسمت بتاتی ہے اگر کام پھر کس کا ہے تاروں کا مقدر دیکھنا ہے صباؔ ہر رات کی تقدیر میں نور سحر روشنی دیکھے گا اپنا بھی مقدر دیکھنا
husn ki ik chingaari ne kyaa khuub lagaai ishq ki aag
حسن کی اک چنگاری نے کیا خوب لگائی عشق کی آگ رخ پر زلف کا جھونکا آیا اور لہرائی عشق کی آگ آنکھ سے نکلی اک دستک نے دل دروازہ کھول دیا پیار کا اک گلدستہ تھامے ملنے آئی عشق کی آگ ساتھ میں جینا ساتھ میں مرنا رشتہ اپنی صدیوں کا ہمجولی ہو اپنی جیسے یا ماں جائی عشق کی آگ پیر میں چکر ہاتھ میں کاسہ دل والوں کی بستی میں پیار کی دولت لینے نکلے ہاتھ میں آئی عشق کی آگ ہجر کے تپتے صحرا میں اک یاد کے گھونٹ سے دم آیا بالکل جان نکلنے کو تھی جب پہنچائی عشق کی آگ اس ظالم کی نظروں میں کچھ جادو جیسی بات تو تھی پہلے پیار کا روپ سجایا پھر سلگائی عشق کی آگ ہجر کے ہاتھوں دل کی زمیں پر ناگ پھنی جب کاشت ہوئے ہم نے یاد کی کلیاں سونگھیں اور مہکائی عشق کی آگ دنیا بھر کی نہریں دریا اور سمندر سوکھ گئے سوہنی اپنے کچے گھڑے میں جب بھر لائی عشق کی آگ یوں تو صباؔ ہم ہر موسم میں آگ میں زندہ جلتے ہیں ساون کی رت نے لیکن کھل کر برسائی عشق کی آگ
jab nayaa moD lene ko thi zindagi vaqt ne ik nai daastaan bakhsh di
جب نیا موڑ لینے کو تھی زندگی وقت نے اک نئی داستاں بخش دی نام ان کا مرے دل پہ کندہ کیا یوں مجھے زندگی جاوداں بخش دی اس کی نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا طاقچوں میں دئے جھلملانے لگے اک دیا جل اٹھا حجرۂ قلب میں جس نے الفت کو صوت اذاں بخش دی میری آنکھیں مرے کان میری زباں حاکم وقت نے رہن میں رکھ لیے ہاتھ پیروں کو کٹوا دیا بعد میں پر یہ احساں کیا میری جاں بخش دی حسن کو دی ادا عشق کو دی وفا اس طرح سے مساوات قائم ہوئی جن سے قائم مساوات ہو نہ سکی ان کو اک فکر سود و زیاں بخش دی دولت عشق کی تھیں فراوانیاں ہجر کا مال کھل کر خریدا گیا میری پلکوں پہ روشن ستارے کئے اس طرح سے مجھے کہکشاں بخش دی خاک کو خاک کرنا ہی مقصد تھا جب کس لئے پھر زمیں پر خلیفہ کیا نیکیوں کے لئے کم ملائک نہ تھے ہم کو یہ ذمہ داری کہاں بخش دی اے صباؔ ہم تو گونگی رعایا میں تھے ظلم کے سامنے لب ہلاتے نہ تھے بولنا آ گیا ہم کو حق کے لئے اس نے جب سے قلم کو زباں بخش دی





