SHAWORDS
Parvez Anjum

Parvez Anjum

Parvez Anjum

Parvez Anjum

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

سارے جہاں کو حسن کا سائل بنا دیا جس دل کو تو نے دیکھ لیا دل بنا دیا شاہان وقت کا یہ کرشمہ تو دیکھیے مظلوم و بے گناہ کو قاتل بنا دیا اک بیکس و غریب کو کل رات شہر نے پتھر سے مار مار کے گھائل بنا دیا یہ تو امیر وقت کا ادنیٰ کمال ہے جاہل کو عالموں کے مقابل بنا دیا کچھ بھی عطا ہو حسن کا صدقہ اے جان جاں انجمؔ کو تیرے عشق نے سائل بنا دیا

saare jahaan ko husn kaa saail banaa diyaa

1 views

غزل · Ghazal

کر دعائیں کہ دعاؤں میں اثر ہوتا ہے محنتی ہاتھ کے حصے میں ثمر ہوتا ہے اب فقیروں کو وہی ٹال دیا کرتے ہیں مال و دولت سے بھرا جن کا بھی گھر ہوتا ہے آدھا پانی ہو گھڑے میں تو چھلکتا ہے بہت جھک ہی جاتا ہے جو پھل دار شجر ہوتا ہے ان چٹانوں کو بدل دیتا ہے فن پاروں میں مہرباں جن پہ بھی وہ جان ہنر ہوتا ہے منتظر بیٹھے ہیں رستے میں بچھا کر آنکھیں دیکھنا یہ ہے کہ کب ان کا گزر ہوتا ہے ظلم کی آگ کو اتنا نہ ہوا دو انجمؔ کانپ اٹھتی ہے زمیں ظلم اگر ہوتا ہے

kar duaaein ki duaaon mein asar hotaa hai

1 views

غزل · Ghazal

بجھا بجھا سا گل تر دکھائی دیتا ہے عجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے میں جس کے واسطے پھولوں کا ہار لایا ہوں اسی کے ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے یہ شہر شیشہ گراں کو خبر نہیں شاید ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے یقین کیسے کروں غیر کی محبت کا کہ اپنا بھائی ستم گر دکھائی دیتا ہے قلم اٹھانے کا جس کو ابھی شعور نہیں وہ آدمی بھی سخنور دکھائی دیتا ہے نگاہ ڈالی ہے جب سے مرے مسیحا نے بلندیوں پہ مقدر دکھائی دیتا ہے تمہاری بزم میں تاریکیاں ہیں کیوں انجمؔ فلک پہ چاند سا دلبر دکھائی دیتا ہے

bujhaa bujhaa saa gul-e-tar dikhaai detaa hai

1 views

غزل · Ghazal

حال دل ہم نے سنایا تو برا مان گئے اشک آنکھوں میں جو آیا تو برا مان گئے وعدہ کرکے جو نہ آئے تو کوئی بات نہیں بے وفا کہہ کے بلایا تو برا مان گئے جس کے ہر لفظ میں ہر بند میں نام ان کا تھا ہم نے وہ گیت سنایا تو برا مان گئے وہ جو غیروں سے ہم آغوش ہوا کرتے ہیں ان کو پہلو میں بٹھایا تو برا مان گئے آپ نے جشن چراغوں کا منایا لیکن اک دیا ہم نے جلایا تو برا مان گئے جام پہ جام اٹھاتے رہے پینے والے ہم نے جو ہاتھ بڑھایا تو برا مان گئے ناز پہ ناز اٹھایا تو بڑے اچھے تھے نیند سے ان کو جگایا تو برا مان گئے عیب ہر شخص میں جو ڈھونڈ رہے تھے انجمؔ آئنہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے

haal-e-dil ham ne sunaayaa to buraa maan gae

1 views

غزل · Ghazal

بد بختی میں سب بے مول ہیرے چن یا موتی رول خوابوں کی تعبیریں ڈھونڈ سورج نکلا آنکھیں کھول صحرا صحرا پھول کھلا دریا دریا زہر نہ گھول تلخ نوائی ٹھیک نہیں بول ہمیشہ میٹھے بول کون یہاں تجھ سا خوددار تو درویش بے کشکول جو کرنا ہے جلدی کر کرتا کیوں ہے ٹال مٹول چپ چپ شادی شادی کیا شہنائی تاشے نہ ڈھول تو استادوں کا استاد تیرے شعر میں کیوں ہے جھول آنکھیں نرگس ہونٹ کنول بات تمہاری ہے انمول غیبت کرنا ٹھیک نہیں ہمت ہے تو منہ پر بول پردہ داری نیکی ہے بھائی انجمؔ بھید نہ کھول

bad-bakhti mein sab be-mol

Similar Poets