SHAWORDS
Parwez Rahmani

Parwez Rahmani

Parwez Rahmani

Parwez Rahmani

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

saubat kaa badal aasudgi kaa pal nahin pakDaa

صعوبت کا بدل آسودگی کا پل نہیں پکڑا سفر میں دھوپ کے ہم نے کبھی چھاگل نہیں پکڑا کہیں ہم سے زیادہ اور کو ان کی ضرورت ہو یہی کچھ سوچ کر ہم نے کبھی بادل نہیں پکڑا کہ جب سے مردوں کی سوداگری ہاتھ آ گئی اس کے شکاری نے پلٹ کر پھر کبھی جنگل نہیں پکڑا پرندے جو گئے لوٹے نہیں پھر آشیانوں میں درختوں نے بھی اس کے بعد کوئی پھل نہیں پکڑا سدا بھیگی رہیں خوف خدا کی روشنائی سے مری آنکھوں نے دنیا کا دیا کاجل نہیں پکڑا قناعت آج پر کی ہے پرندوں کی طرح میں نے مرے ہاتھوں نے رحمانیؔ کسی پل کل نہیں پکڑا

غزل · Ghazal

use tab dekhte shaadaab thaa jab

اسے تب دیکھتے شاداب تھا جب وہ صحرا ہر طرف خوش خواب تھا جب کھڑے خوش فعلیاں کرتے تھے بگلے ندی میں گھٹنے گھٹنے آب تھا جب امیدی سیپیاں عرفان سی تھیں سمندر فکر کا پایاب تھا جب چمکتی خوشبوئیں تھیں مچھلیوں کی جزیرہ خواب کا دشتاب تھا جب قدم خود سے بڑھاتے تھے نہ رستے برستا چار سو کہراب تھا جب سبھی چہرے اجالا سوچتے تھے ہماری آنکھوں پہ نقشاب تھا جب تھیں ہم تعبیر رحمانیؔ کی باہیں بدن ہم خواب کا کمخواب تھا جب

غزل · Ghazal

pai-ba-pai aaina-bandi mere us ke darmiyaan

پے بہ پے آئینہ بندی میرے اس کے درمیاں اک مسلسل خود فریبی میرے اس کے درمیاں رشتۂ خود اعتمادی میرے اس کے درمیاں کب رہی تھی خوش گمانی میرے اس کے درمیاں پیدا ہوتا کس طرح خود اعتمادی کا سوال کب رہی تھی خوش گمانی میرے اس کے درمیاں کون خفت مول لیتا پیش قدمی کرتا کون بزدلی پھیلی ہوئی تھی میرے اس کے درمیاں اجنبیت اس نے برتی کیا برا اس نے کیا کون سی تھی آشنائی میرے اس کے درمیاں زندگی سے زندگی تک اک صدی کا فاصلہ ایک دیوار خموشی میرے اس کے درمیاں پھر بھی ہم اک دوسرے کو ٹوٹ کر چاہا کئے تھی بظاہر سرد مہری میرے اس کے درمیاں اک غلط فہمی کے ہاتھوں عمر بھر حائل رہا اک حصار بے نیازی میرے اس کے درمیاں ہوتی رحمانیؔ بھلا صاحب سلامت کس طرح ہو سکی تھی کب صفائی میرے اس کے درمیاں

غزل · Ghazal

ik-duje ke baasi un ko aur baseraa kyaa maa'lum

اک دوجے کے باسی ان کو اور بسیرا کیا معلوم اپنے پن کے باشندوں کو میرا تیرا کیا معلوم سورج بولے تو سو جائیں سورج بولے تو جاگیں کیا جانیں یہ دیا جلانا ان کو اندھیرا کیا معلوم خواب کا جھوٹ جیون سچ میں تل تل مرنا جن کا بھاگ یہ راتوں کے قیدی ان کو سانجھ سویرا کیا معلوم بستی سے باہر سانپوں نے بھی تو کچھ پھونکا ہوگا آدھی راہ سے لوٹا ہو مہمان سپیرا کیا معلوم باندھی تھیں آشائیں کیا کیا ہم نے اب کے موسم سے رحمانیؔ اب کون سی رت میں پھولے بہیرا کیا معلوم

غزل · Ghazal

tere saath chehre hain mere sang aaina

تیرے ساتھ چہرے ہیں میرے سنگ آئنہ دیکھ آج ہوتا ہے کس پہ تنگ آئینہ بول خود شناسی پھر کس طرح سے ممکن ہو پیش کر رہا ہو جب سات رنگ آئینہ خود پرستیوں نے بھی خوب روشنی بخشی بن گیا اندھیروں میں ایک سنگ آئینہ لخت لخت آوازیں فرد فرد پہچانیں شور شور خاموشی وجہ جنگ آئینہ تیرے شہر کا قصہ میرے شہر کی گاتھا صاف صاف دھندلاہٹ زنگ زنگ آئینہ کوئی سا بھی پیکر ہو اس کو ڈر نہیں لگتا کیوں کہ اپنی فطرت سے ہے دبنگ آئینہ مشتہر ہوئیں جب بھی اجلی خواہشیں پرویزؔ کھولتا نظر آیا انگ انگ آئینہ

غزل · Ghazal

sahn raushan na ik makaan raushan

صحن روشن نہ اک مکاں روشن چہرہ چہرہ اداسیاں روشن ذہن در ذہن وصل بے زاری جسم در جسم سردیاں روشن گاؤں در گاؤں تیرگی کے پڑاؤ شہر در شہر بجلیاں روشن بھر سفر دھوپ کفر کرتی ہوئی نا طرف سر پہ سائباں روشن سوچتے رہ گئے نظر والے کر گئے یار جسم و جاں روشن کتنے عالم حیات سے چھوٹے تب ہوا ایک خاکداں روشن نور نے گھر کیا نگاہوں میں ہو گئے سات آسماں روشن

Similar Poets