Prabhat Kumar Sarwar Lakhnavi
مری بات سن مرے ہم نفس مرے ساتھ اب تو وفا نہ کر میں چراغ ہوں جو بجھا ہوا مجھے روشنی کی دعا نہ کر میں وہ اشک ہوں جو گرا نہیں میں وہ درد ہوں جو ہوا نہیں مرا ظرف مجھ سے ہے کہہ رہا مرے زخم کی تو دوا نہ کر تری آرزو میں سنور گیا تری جستجو میں بکھر گیا تری سازشوں میں جو راز ہے تو کبھی بھی اس کو کہا نہ کر مرا ہم سفر بھی رہا ہے تو مری ہر غزل میں چھپا ہے تو مری دھڑکنوں سے تو آ کے مل مجھے رہ گزر میں ملا نہ کر یہ سمجھ لے سرورؔ غم زدہ وہ رحیم ہے وہ کریم ہے جو لکھا ہے اس نے نصیب میں کبھی اس کا شکوہ گلہ نہ کر
miri baat sun mire ham-nafas mire saath ab tu vafaa na kar