Prabhat Patel
مانا کہ سبھی سے یہ چھپائی نہیں جاتی دولت بھی مگر غم کی لٹائی نہیں جاتی ہم آئے بڑی دور سے دیدار کو تیرے تجھ سے ذرا چلمن بھی ہٹائی نہیں جاتی دنیا میں محبت کے سوا اور بھی ہیں کام الفت کے لیے نیند گنوائی نہیں جاتی انصاف ہو کیسے کہ عدالت میں کبھی جب تصویر صداقت کی دکھائی نہیں جاتی اس نے ہیں سہے کتنے ستم کس کو ہے معلوم سر پہ یوں ہی دنیا یہ اٹھائی نہیں جاتی ہوتا جو مرے بس میں مٹا دیتا اسے پر ہاتھوں کی لکیر ایسے مٹائی نہیں جاتی مذہب کا حسد پال کے رکھا ہے سبھی نے پر آگ سے یہ آگ بجھائی نہیں جاتی
maanaa ki sabhi se ye chhupaai nahin jaati