Prakash Tiwari
Prakash Tiwari
Prakash Tiwari
Ghazalغزل
ghar sulagtaa saa hai aur jaltaa huaa saa shahr hai
گھر سلگتا سا ہے اور جلتا ہوا سا شہر ہے زندگانی کے لیے اب دو جہاں کا قہر ہے جاؤ لیکن سرخ شعلوں کے سوا پاؤ گے کیا سنسناتے دشت میں کالی ہوا کا قہر ہے دل یہ کیا جانے کہ کیا شے ہے حرارت خون کی جسم کیا سمجھے کہ کیسی زندگی کی لہر ہے اے محبت میں تری بیتابیوں کو کیا کروں بڑھ کے چشم یار سے برہم مزاج دہر ہے بھر رہا ہوں کس شراب درد سے جام غزل روح میں کچلے ہوئے جذبات کی اک نہر ہے زندگی سے بھاگ کر پرکاشؔ میں جاؤں کہاں گھر کے باہر قہر ہے اور گھر کے اندر زہر ہے
na jaane kyaa vo darakhton se baat karte rahe
نہ جانے کیا وہ درختوں سے بات کرتے رہے کہ ڈالیوں کی لچک سے پرند ڈرتے رہے نقوش ابھرے جو تاریکیوں کے دامن پر خیال و خواب میں آ آ کے وہ بکھرتے رہے تمام عمر نچوڑا کئے رگوں کا لہو کہ ہم امیدوں کے خاکوں میں رنگ بھرتے رہے گلوں کی طرح رہے آندھیوں کے نرغے میں تمام زندگی ہم ٹوٹتے بکھرتے رہے عجیب دن تھا کہ شعلے فلک اگلتا رہا لہولہان پرندے اڑان بھرتے رہے ہمیں تو کافی تھا شبنم کا ایک قطرہ بھی زمانے والے پیالے لہو کے بھرتے رہے
gham ke shoale lapakne lage hain
غم کے شعلے لپکنے لگے ہیں زرد چہرے دمکنے لگے ہیں ہو گئی عقل گمراہ کتنی راہبر خود بھٹکنے لگے ہیں آتے ہی گل رخوں کا تصور بند کمرے مہکنے لگے ہیں کب رکے گی غموں کی یہ بارش آس کے گھر ٹپکنے لگے ہیں آئنہ تو ذرا دیکھو پرکاشؔ داغ دل کے جھلکنے لگے ہیں
apnaa pata phaTi hui jebon mein Daal kar
اپنا پتہ پھٹی ہوئی جیبوں میں ڈال کر گھر سے نکل پڑے ہیں بلاؤں کو ٹال کر قاتل ہیں راستے تو سفر ہے لہو لہو آؤ شگون دیکھ لیں سکہ اچھال کر سمجھیں کہیں نہ کوئی عجوبہ تجھے یہ لوگ غربت کی زندگی کا نہ اتنا ملال کر تاریکیٔ حیات میں گم وہ بھی ہو گئے چلتے تھے راستہ جو بہت دیکھ بھال کر خون جگر سے لکھی ہے تاریخ عہد نو شاعر نے سب حقیقتیں شعروں میں ڈھال کر مرجھا گیا ہے تیری جدائی میں نخل دل آب وصال سے تو اسے پھر نہال کر پیتے ہیں روز شب تری فرقت میں ساقیا اپنا شباب ساغر و مینا میں ڈھال کر پرکاشؔ میری لاش کو کاغذ کا دے کفن بے وقت موت کا نہ تو اتنا ملال کر
paapon ki man mein oDh ke poshaak raat-din
پاپوں کی من میں اوڑھ کے پوشاک رات دن کس شان سے چمکتی ہے یہ خاک رات دن دل کا سکون لے کے وہ جانے کہاں گیا تکتا پھرے ہے دیدۂ نمناک رات دن گل کی طرح ذرا سے تبسم کے واسطے کرتی ہے زیست کیسے قبا چاک رات دن یہ بھی ہے ایک راز کہ کھاتا ہے پیچ و تاب اپنے ہی دام وہم میں ادراک رات دن پھولوں کا رنگ دیکھ کے اے کشتۂ خزاں بلبل کی طرح کر نہ جگر چاک رات دن آشوب دہر سے تو اماں مل گئی مگر اک شور سا رہے ہے تہ خاک رات دن پرکاشؔ دل کا درد ہے دل میں ابھی تلک کیوں گونجتا ہے گنبد افلاک رات دن





