SHAWORDS
Pramod Rajput

Pramod Rajput

Pramod Rajput

Pramod Rajput

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

سوکھے پھول مہک اٹھتے ہیں گرد آلود کتابوں میں میں نے سوچا بھول گیا میں سب کچھ اتنے سالوں میں چاہت آج بھی جاگ اٹھتی ہے بھولی بصری یادوں کی سیلی دل کی دیواریں آتی ہیں نظر برساتوں میں یوں تو عمر گزر جاتی ہے کچھ رشتوں کو بنانے میں کوئی اپنا ہو جاتا ہے بس باتوں ہی باتوں میں ایک اکیلا میں ہی نہیں ہوں تیرے پیار میں سودائی اکثر چاند کو دیکھا ہے روتے ہوئے ٹھنڈی راتوں میں یہ تو ہاری ہی بازی تھی جانے کیسے جیتا میں شاید میری ماں نے ہے رکھا ہر پل مجھ کو دعاؤں میں

sukhe phuul mahak uThte hain gard-aalud kitaabon mein

غزل · Ghazal

اک تعلق تھا فقط اس کے سوا کچھ بھی نہیں چھوڑ کے جب وہ گیا میں نے کہا کچھ بھی نہیں کام تو کچھ اور بھی کر لیتے ہم یاروں مگر ہم نے تو اس عشق سے بڑھ کر کیا کچھ بھی نہیں پھر سے لوٹا دو مجھے گمنامی کی تنہائیاں شہرتوں کی بھیڑ میں مجھ کو ملا کچھ بھی نہیں وقت رخصت اس کی آنکھیں کچھ تو کہتی تھیں مجھے شور دل میں اتنا تھا میں نے سنا کچھ بھی نہیں بابو جی نے برسوں پہلے گھر کا بٹوارا کیا ماں کے اور ان کے سوا میں نے لیا کچھ بھی نہیں یہ محبت گر نہیں تو اور کیا ہے ہم نشیں بعد مدت کے ملے ہیں پر گلہ کچھ بھی نہیں سیکڑوں ٹکڑے تو چاہے کر دے اس کے جان من آئنہ تو بولتا سچ کے سوا کچھ بھی نہیں یہ سہی ہے دل مرا توڑا اسی نے دوستو بے وفا وہ ہے مگر اس کی خطا کچھ بھی نہیں

ik ta'alluq thaa faqat is ke sivaa kuchh bhi nahin

غزل · Ghazal

یہاں سب کچھ دکھایا جا رہا ہے کہیں کچھ تو چھپایا جا رہا ہے میں سچا ہوں تو سچ بولوں گا آخر سو مجھ کو بھی مٹایا جا رہا ہے یہ جھوٹے لوگوں کی ہی بستیاں ہیں یہاں سچ کو دبایا جا رہا ہے تھے زندہ جب اکیلے تھے یہ ماں باپ مرے تو حق جتایا جا رہا ہے میں اس کے دل میں رہتا آ رہا ہوں مرا اچھا کرایہ جا رہا ہے

yahaan sab kuchh dikhaayaa jaa rahaa hai

غزل · Ghazal

آج شاید کوئی ملنے آیا یہاں آ رہا ہے نظر ایک سایا یہاں امتحاں اور لے گا خدا کس قدر مجھ کو اپنوں نے نت آزمایا یہاں نا خدا نے ڈبونے کی سازش ہی کی موج دریا نے مجھ کو بچایا یہاں کیا گلہ شہر میں ہم کریں غیر کا زخم اپنوں کی جانب سے آیا یہاں بھول ہوتی لکیروں کی تو غم نہ تھا اس نے ہاتھوں سے مجھ کو مٹایا یہاں ترک الفت کا ان سے گلہ کیا کریں دوش مجبوریوں کو لگایا یہاں اتنا آہٹ پہ ہو خوش نہ اے دل مرے کھڑکیوں کو ہوا نے ہلایا یہاں کن حسابوں کو لے کر تو بیٹھا ہے دل اس نے گھر کب کسی کا بسایا یہاں بات ہوتی نصیبوں کی تو ٹھیک تھی اس وفا کو انا نے ہرایا یہاں پیاس کو چھیڑ ساقی ہماری نہ تو مے کدوں کو ہمیں نے بسایا یہاں

aaj shaayad koi milne aayaa yahaan

غزل · Ghazal

جو جنون تھا ترے عشق کا میرے سر سے اب وہ اتر گیا ہوئیں بارشیں بھی تو زور سے سو یہ آسماں بھی نکھر گیا وہ جو شخص تھا مرا منتظر مرے دل سے کیسے اتر گیا اسے ڈھونڈھتا ہوں گلی گلی وہ کہاں گیا وہ کدھر گیا کئی راہزن بھی ہیں ہم قدم مرے کاروان حیات میں جو قدم قدم مرے ساتھ تھا مرا راہبر وہ کدھر گیا ہے جہان بھر کے بھی غم مرے مری زندگی میں تو ہی نہیں مرے رونے سے کہاں فائدہ جو تو وعدہ کر کے مکر گیا ترے درد کو تو سمیٹنا مری زندگی کا اصول تھا تو یہ کیا ہوا ترے روبرو میرا ذرہ ذرہ بکھر گیا وہ جو پھول مجھ کو عزیز تھا مری دسترس میں نہ آ سکا اسے غور سے ہوں جو دیکھتا لگے کتنا وقت گزر گیا

jo junun thaa tire 'ishq kaa mere sar se ab vo utar gayaa

Similar Poets