Pramod Sharma Asar
چھپا کر اپنی کرتوتیں ہنر کی بات کرتے ہیں شجر کو کاٹنے والے ثمر کی بات کرتے ہیں جلے ہیں جو نشیمن راکھ پر ان کی کھڑے ہو کر جنہوں نے پھونک ڈالے گھر وہ گھر کی بات کرتے ہیں عناصر جس کے تھے مہر و وفا شفقت ادب غیرت انہیں جو بھول بیٹھا اس بشر کی بات کرتے ہیں گھرے ہیں مدتوں سے جو اندھیروں میں مصائب کے نہیں آتی کبھی جو اس سحر کی بات کرتے ہیں سبھی سے بزم میں ہنس کر ملی بے ساختہ لیکن نہیں ہم پر پڑی جو اس نظر کی بات کرتے ہیں ہوئے تقسیم جب سے دشمنی قائم بھی ہے لیکن ادھر والے ہماری ہم ادھر کی بات کرتے ہیں نہیں ہے رابطہ جن کا اثرؔ پیروں کے چھالوں سے گھروں سے جو نہیں نکلے سفر کی بات کرتے ہیں
chhupaa kar apni kartutein hunar ki baat karte hain