SHAWORDS
Prem Narayan Saxena Raz

Prem Narayan Saxena Raz

Prem Narayan Saxena Raz

Prem Narayan Saxena Raz

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

حادثہ کیا ہوا خدا جانے جمع ہیں گرد اپنے بیگانے ایک دل اور سینکڑوں ناصح کیسے ہر ایک کا کہا مانے آتے جاتے ہیں کس لئے یہ لوگ آج کیا ہو گیا خدا جانے ہر گھڑی صبر و ضبط کی تلقین کھل کے رونے دیا نہ دنیا نے زخم سینے پہ اشک آنکھوں میں بس یہی کچھ دیا ہے دنیا نے پیاس بجھتی تھی جس سے رندوں کی دیکھ خالی ہیں اب وہ پیمانے دل میں روشن ہیں یاد کی شمعیں جل بجھے آرزو کے پروانے بڑھ گئی اور دل کی بیتابی کون آیا ہے آج سمجھانے دل کو کیا کیا دئے فریب کے درس زندگی بھر تری تمنا نے رہ نہ جانا الجھ کے اے ناداں زلف گیتی چلا ہے سلجھانے شہر میں تیرے عشق کے اے رازؔ جتنے منہ آج اتنے افسانے

haadisa kyaa huaa khudaa jaane

غزل · Ghazal

ذات و صفات کا تری راز عیاں نہاں بھی ہے دل میں یقیں کی شکل ہے آنکھ میں تو گماں بھی ہے وقت کی مصلحت سے کچھ میں ہوں خموش ورنہ آج خامہ بدست ہی نہیں منہ میں مرے زباں بھی ہے میرا تجسس حواس مجھ کو بندھا رہا ہے آس جسم کے اس جہاں سے دور روح کا اک جہاں بھی ہے جس میں غم جہاں فقط صورت یک حباب ہے دل میں وہ تیرا جذب شوق قلزم بے کراں بھی ہے وسعت عرش و فرش میں عزم و عمل سے آدمی سمٹے تو ایک ذرہ ہے پھیلے تو اک جہاں بھی ہے رازؔ بہ‌ غور دیکھ تو سر سے بشر کو پاؤں تک سنگ بھی ہے شرر بھی ہے آگ بھی ہے دھواں بھی ہے

zaat-o-sifaat kaa tiri raaz ayaan nihaan bhi hai

غزل · Ghazal

اہل دل جس کو فنا اور نہ بقا کہتے ہیں زندہ رہنے کے اس انداز کو کیا کہتے ہیں ذکر اس شوخ سے کرتا ہے کوئی جب میرا رخ پہ آ جاتا ہے اک رنگ حیا کہتے ہیں خاک اس شخص نے مجھ ہی کو کیا سب جس کو شعلہ رو شعلہ نظر شعلہ نوا کہتے ہیں لمحہ بھر عشق پہ اپنے ذرا کھل کر ہنس لیں گریۂ ہجر ہے قسمت میں لکھا کہتے ہیں وہی سنتا نہیں فریاد ہماری اے دل ہم جسے اپنی محبت کا خدا کہتے ہیں نہ رہ و رسم ہے جس سے نہ دعا اور نہ سلام پھر بھی احباب مجھے اس پہ فدا کہتے ہیں بے تکلف جو سما جائے نگاہ و دل میں ہم فقط اس کو محبت کی ادا کہتے ہیں کتنے بے دین ہیں مت پوچھ عوام محکوم ہر نئے دور کے حاکم کو خدا کہتے ہیں خاص اپنوں میں بھی ہوتے ہیں کچھ ایسے بد خواہ دل سے چاہیں جو برا منہ پہ بھلا کہتے ہیں دل کی آواز ہے اب روح کا نوحہ اے رازؔ جانے کیوں لوگ مجھے نغمہ سرا کہتے ہیں

ahl-e-dil jis ko fanaa aur na baqaa kahte hain

غزل · Ghazal

راحت ملی سکون ملا آگہی ملی وہ کیا ملے کہ ہم کو نئی زندگی ملی دل کا بجھا چراغ اچانک بھڑک اٹھا اک چشم پر خلوص میں وہ شعلگی ملی ساتھ ان کے زندگی کا سفر اس طرح کٹا راہوں میں ہر قدم پہ خوشی ناچتی ملی جس میں رچا ہوا تھا مرا رنگ آرزو ان کے لبوں پہ گیت کی وہ پنکھڑی ملی شاید مری نگاہ پرستش کا سحر تھا مورت وہ مرمریں سی مجھے بولتی ملی اک ماہ وش کا نور رہا روح پر محیط ہر رات زندگی کی مجھے چاندنی ملی بدنام عشق میں نہ ہوئے غیر کی طرح عزت فزا حیات ہمیں عشق کی ملی دل بستگیٔ بزم میں تلوے جھلس گئے شعلوں پہ رقص کرتی ہمیں زندگی ملی اک مہرباں نظر کی ادائے لطیف سے آوارگیٔ رازؔ کو شائستگی ملی

raahat mili sukun milaa aagahi mili

غزل · Ghazal

کار گر دست جفا کار رہے گا کب تک گرم یہ ظلم کا بازار رہے گا کب تک آہ و فریاد سے اک حشر بپا ہے ہر سمت خونفشاں خنجر زردار رہے گا کب تک خاک مقتل کے سلگتے ہوئے ہر ذرے میں خون مظلوم شرر بار رہے گا کب تک عصر آزادی و جمہور میں حق گو انساں نعرۂ حق سے سر دار رہے گا کب تک قلب زردار میں سرکوبیٔ مفلس کے لئے طیش کا لشکر جرار رہے گا کب تک نئی تہذیب پہ چھایا ہوا زردار نظام خون مفلس کا خریدار رہے گا کب تک سنگ خارا کی طرح اہل سیاست کا وجود حائل جادۂ فن کار رہے گا کب تک زور شمشیر سے کرنے کو زمیں کے ٹکڑے آدمی برسر پیکار رہے گا کب تک طاقت و زر کے خداؤں کے جہاں میں انساں دیکھنا یہ ہے کہ خوددار رہے گا کب تک ہو کے بے باک ہر اک راز حقیقت کہہ دے دام باطل میں گرفتار رہے گا کب تک جس نے الٹی ہے ابھی چہرۂ ماضی سے نقاب دل میں وہ جذبۂ بیدار رہے گا کب تک

kaar-gar dast-e-jafaa-kaar rahegaa kab tak

Similar Poets