SHAWORDS
P

Priya Tabita

Priya Tabita

Priya Tabita

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

vo hansti aankhein hasin tabassum damaktaa chehra kitaab jaisaa

وہ ہنستی آنکھیں حسیں تبسم دمکتا چہرہ کتاب جیسا دراز قامت ہے سرو آسا ہے رنگ کھلتے گلاب جیسا وہ دھیمے لہجے کے زیر و بم میں پھوار جیسی حسین رم جھم ہے گفتگو میں بہم تسلسل رواں رواں سا چناب جیسا کچھ اس کے عارض کی دل فریبی کچھ اس کے ہونٹوں کا رنگ دل کش وہ سر سے پا ہے غزل کا لہجہ نیا نیا سا شباب جیسا کبھی وہ تصویر بن کے دیکھے کبھی وہ تحریر بن کے بولے وہ پل میں گم صم وہ پل میں حیراں کسی مصور کے خواب جیسا وہ میرے جذبوں کی خوش نصیبی یا اس کی چاہت کی انتہا ہے کہ اس کی آنکھوں میں عکس میرا نہاں عیاں سا حجاب جیسا فرشتہ صورت دعا کا سایہ وہ روپ انساں کا دھار آیا ہے اس سے دوری عذاب مجھ کو ہے اس کا ملنا ثواب جیسا پلٹ کے دیکھے تو وقت ٹھہرے وہ چل پڑے تو زمانہ حیراں وہ رشک امبر وہ ماہ کامل وہ کہکشاں وہ شہاب جیسا کبھی وہ شعر و سخن کا شیدا کبھی وہ تحقیق کا دوانہ وہ میری غزلوں کا حسن مطلع مرے مقالے کے باب جیسا

غزل · Ghazal

ik yahi vasf hai is mein jo amar lagtaa hai

اک یہی وصف ہے اس میں جو امر لگتا ہے وہ کڑی دھوپ میں برگد کا شجر لگتا ہے یوں تو چاہت میں نہاں جون کی حدت ہے مگر سرد لہجے میں دسمبر کا اثر لگتا ہے جب سے جانا کہ وہ ہم شہر ہے میرا تب سے شہر لاہور بھی جادو کا نگر لگتا ہے جانے کب گردش ایام بدل ڈالے تجھے جیت کر تجھ کو مجھے ہار سے ڈر لگتا ہے چاہے کتنی ہی سجاوٹ سے مزین ہو مگر ماں نظر آئے تو گھر اصل میں گھر لگتا ہے اس قدر اس کی نگاہوں میں تقدس ہے نہاں سر جھکاتی ہوں تو پیپل کا شجر لگتا ہے

Similar Poets