Priyadarshi
مرے آنسوؤں پہ نہ مسکرا کئی خواب تھے جو مچل گئے مرے دل کے شیش محل میں پھر لو چراغ یادوں کے جل گئے مرا کوئی تیرے سوا نہیں مرے غم کی کوئی دوا نہیں مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں تم بدل گئے تو بدل گئے وہی وادیاں وہی راستے وہی منظریں وہی مرحلے مگر اب نظر میں جو تم نہیں وہ ہزار جلوے پگھل گئے
mire aansuon pe na muskuraa kai khvaab the jo machal gae