
Priyadarshi Thakur Khayal
Priyadarshi Thakur Khayal
Priyadarshi Thakur Khayal
Ghazalغزل
مرا اندازہ غلط ہو تو بتا دے مجھ کو تجھ پہ الزام سوا ہو تو سزا دے مجھ کو اس نے آنکھوں میں جگہ دی بھی تو آنسو کی طرح شاید اک ہلکی سی جنبش بھی گرا دے مجھ کو تیری نظروں میں محبت بھی ہے اک کھیل تو آ میں کروں تجھ پہ بھروسہ تو دغا دے مجھ کو میں اجالا ہوں تو تنویر مجھے اپنی بنا اور اندھیرا ہوں تو اے شمع مٹا دے مجھ کو اپنی تقدیر سے ٹکراؤں بدل ڈالوں اسے اتنی توفیق کبھی میرے خدا دے مجھ کو کتنی دیر اور رہانسا مجھے رکھے گا خیالؔ اب رلانا ہے تو پھر صاف رلا دے مجھ کو
miraa andaaza ghalat ho to bataa de mujh ko
فاصلہ دیر و حرم کے درمیاں رہ جائے گا چاک سل جائیں گے یہ زخم نہاں رہ جائے گا ہاتھ سے اپنے تو دھو لے گا لہو کے داغ تو دیوتا کا پاک دامن خوں فشاں رہ جائے گا چاند تھوڑی دیر میں چل دے گا اپنے راستے پھر ستاروں کے سہارے آسماں رہ جائے گا جانے والے کو میسر ہو گئی غم سے نجات غم تو اس کے ہو رہیں گے جو یہاں رہ جائے گا راکھ سے میری چتا کی اس کی آنکھوں میں خیالؔ اور یہ دو چار دن شور فغاں رہ جائے گا
faasla dair-o-haram ke darmiyaan rah jaaegaa
نہ کھیل اب کھیل تو میرے یقیں سے خدا کے واسطے آ جا کہیں سے یہ اچھی آگ اشکوں نے بجھائی دھواں اٹھنے لگا اب ہر کہیں سے انہیں کو آسماں نے بھی ڈرایا ڈرے سے تھے جو پہلے ہی زمیں سے سزائیں جو مسلسل مل رہی ہیں خطا کچھ ہو گئی ہوگی ہمیں سے خیالؔ اب سوچ مت اتنا زیادہ یہ کہہ دے ہاں محبت ہے تمہیں سے
na khel ab khel tu mere yaqin se
کسی کے ساتھ گیا مدتیں گزار آیا بڑے دنوں میں کہیں جا کے پھر قرار آیا نہیں ہے خواب یہ سچ ہے نہ اعتبار آیا یہ کیا ہوا کہ انہیں اور مجھ پہ پیار آیا گیا تھا آنکھوں میں امید کی کرن لے کر میں اس کے شہر سے لوٹا تو اشک بار آیا وہ تھا جہاز کا پنچھی نہ میں جہاز کوئی نہ کام صبر ہی آیا نہ انتظار آیا فراز کوہ کا رستہ بھی تھا کڑا لیکن خیالؔ کانپ اٹھی روح جب اتار آیا
kisi ke saath gayaa muddatein guzaar aayaa
یہی ہوتا ہے اکثر زندگی میں کہ تھوڑا غم بھی شامل ہو خوشی میں اداس آنکھوں میں پلکوں کی نمی میں جھلکتی تھی وفا بھی بے رخی میں وہاں دشوار تھا خود سے بھی ملنا تلاش یار کیا ہو بے خودی میں گلے شکوے تو ہوتے ہی رہیں گے چلو کچھ دیر بیٹھیں چاندنی میں اندھیروں سے شکایت ہو تو کیا ہو دکھائی کچھ نہ دے جب روشنی میں نہ کوئی آرزو دل میں شفا کی نہ حاصل ہے شفا چارہ گری میں مثال ارجنؔ کی رکھنا یاد ہر دم بہت آگے بڑھو گے زندگی میں غنیمت ہے کہ اب بھی دیکھتے ہیں ہم اپنے آپ کو اس اجنبی میں خیالؔ اتنے نہ تھے کم ظرف پہلے بڑی گہرائی تھی تشنہ لبی میں
yahi hotaa hai aksar zindagi mein





