SHAWORDS
Puran Singh Hunar

Puran Singh Hunar

Puran Singh Hunar

Puran Singh Hunar

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

apnaa dil apni nazar apnaa jigar dekheinge

اپنا دل اپنی نظر اپنا جگر دیکھیں گے آج ہم خود کو بہ انداز دگر دیکھیں گے باغ پر یورش برق اور شرر دیکھیں گے ہم سے دیکھا تو نہ جائے گا مگر دیکھیں گے رات کو ہجر میں دل اس طرح تڑپا ہے کہ بس ہم کو امید نہیں تھی کہ سحر دیکھیں گے آج مانگیں گے دعاؤں میں خدا سے ان کو آج ہم اپنی دعاؤں کا اثر دیکھیں گے شہر میں یوں تو ہیں خوش چہرہ کئی لوگ مگر کس کے چہرے پہ ٹھہرتی ہے نظر دیکھیں گے آج معراج پہ ہے شوق نظارہ اپنا ان کا جلوہ نظر آئے گا جدھر دیکھیں گے وہ مسافر ہوں سفر ہے مرا پیہم جاری چاند کو آپ فقط تا بہ سحر دیکھیں گے باغ کا حشر جو ہونا ہے وہ ہوگا لیکن کوششیں اس کو بچانے کی تو کر دیکھیں گے ہاتھ فن کار کے کاٹے گئے لیکن پھر بھی آپ جس شہر میں جائیں گے ہنرؔ دیکھیں گے

غزل · Ghazal

jaari safar hai apnaa safar ke baghair bhi

جاری سفر ہے اپنا سفر کے بغیر بھی ہم چل رہے ہیں راہ گزر کے بغیر بھی دیوار کے بغیر بھی در کے بغیر بھی جیتے ہیں کتنے لوگ تو گھر کے بغیر بھی کیا کیا کیا ذلیل مجھے خواہشات نے جھکتا گیا ہے سر ترے در کے بغیر بھی قدروں کا یہ زوال یہ کج فہمیوں کا دور سب با ہنر ہوئے ہیں ہنر کے بغیر بھی کمزور ہو گیا ہے شجر اپنی ذات کا ہر شاخ جھک گئی ہے ثمر کے بغیر بھی سچی سماعتوں کا زمانہ گزر گیا نغمے پنپ رہے ہیں اثر کے بغیر بھی یہ میں شب فراق کی کن منزلوں میں ہوں سورج نکل رہا ہے سحر کے بغیر بھی کن واقعوں نے ان کا لہو سرد کر دیا ڈرتے ہیں لوگ اب کسی ڈر کے بغیر بھی رہنے دو اس کو اپنی انا کے دباؤ میں سب کام چل رہے ہیں ہنرؔ کے بغیر بھی

Similar Poets