
Pushp Raj Yadav
Pushp Raj yadav
Pushp Raj yadav
Ghazalغزل
یہ شام غم گزار مرے ساتھ ساتھ چل اے پنچھیوں کی ڈار مرے ساتھ ساتھ چل تنہا سفر طویل ہے میں اوب جاؤں گا اے سر پھری بیار مرے ساتھ ساتھ چل سورج کے آس پاس بسائیں گے اک نگر ان بادلوں کے پار مرے ساتھ ساتھ چل اس زندگی کی دھوپ میں کر شکر جو ملیں کچھ پیڑ سایہ دار مرے ساتھ ساتھ چل پھر اس کی اور جیسے میں کھنچتا چلا گیا گونجی تھی اک پکار مرے ساتھ ساتھ چل ہے راہ عشق کو بہ کو مشکل بھی سخت بھی تو چل سکے تو یار مرے ساتھ ساتھ چل
ye shaam-e-gham guzaar mire saath-saath chal
موسم کی مار وقت کا کوڑا ہے میری سمت اب جو بھی جس طرح بھی ہے اچھا ہے میری سمت سوچوں تو سو ملال مجھے سانس سانس پر دیکھوں تو ایک آگ کا دریا ہے میری سمت دریا کے پکشپات پہ اب کیا کہیں کہ جو اتھلا ہے تیری سمت تو گہرا ہے میری سمت ایسی اداس رات کہ کاٹے نہیں کٹے بام و افق پہ چھایا اندھیرا ہے میری سمت میں وہ شجر ہوں جس کی سبھی پتیوں میں چھید میں وہ کماں ہوں جس کا نشانہ ہے میری سمت آنکھوں کا دشت خواب کی لپٹوں سے جل گیا اور اس کے باوجود جو سبزہ ہے میری سمت اک روشنی جو فکر میں اتری ہے غیب سے اک باغ لفظ کھلتے ہی مہکا ہے میری سمت
mausam ki maar vaqt kaa koDaa hai meri samt
جتنا مخول آج مری زندگی کو ہے شاید ہی اس زمانہ میں ہوتا کسی کو ہے آگے کا کچھ پتا نہیں اس وقت تو انہیں اتنی ہے رسم و راہ کہ ہوتی کسی کو ہے ہم سے تو پوچھنے کا سبب کچھ نہیں تو کیا جتنا ہے جوش وصل سو اتنا اسی کو ہے دنیا بہت عجیب ہے انساں کو کیا کہیں ہوتا کسی کا اور وہ روتا کسی کو ہے کتنا بھی سخت جان ہو انسان پھر بھی دوست گھر چھوٹنے کا درد اکھرتا سبھی کو ہے
jitnaa makhaul aaj miri zindagi ko hai
بچھڑے ہوئے لوگوں کو سینہ میں بسا رکھنا اپنا تو مقدر ہے آنکھوں کو بجھا رکھنا سوچا نہیں کرتے ہیں بیتی ہوئی باتوں کو بہتے ہوئے اشکوں کو ہمت سے دبا رکھنا سونے سی کوئی صورت ابھرے گی چٹانوں پر سورج سے دوپہری بھر اک ربط بنا رکھنا شاید یہیں مل جائے وہ شخص جو بچھڑا ہے سنسان سے منظر کو باتوں میں لگا رکھنا کاندھوں پہ اٹھا رکھنا دنیا کے ہر اک غم کو اور خود کو زمانہ کی فطرت سے جدا رکھنا روئیں تو وہی آنکھیں ڈھونڈھیں تو وہی چہرہ عادت سی کوئی جیسے دن رات بنا رکھنا اک آس تو رہتی ہے یہ زندگی رہنے تک ان بے وفا لوگوں کی فہرست بنا رکھنا
bichhDe hue logon ko siine mein basaa rakhnaa





