
Pyare Lal Ratan
Pyare Lal Ratan
Pyare Lal Ratan
Ghazalغزل
لفظوں کے تلاطم میں آہنگ جگا بیٹھے تم نے تو غزل گائی ہم ہوش بھلا بیٹھے ایسی بھی شکایت کیا بے باک نگاہی سے آئینہ دکھایا تھا چہرہ ہی چھپا بیٹھے کیا کیا نہ گماں گزرا کیا کیا نہ خیال آیا کیا کیا نہ بنی دل پر ہم فون اٹھا بیٹھے اے وائے وہ نادانی اے وائے یہ دانائی دنیا نے تو کیا لوٹا ہم خود کو لٹا بیٹھے کیا کیا نہ زمانے کے دامن سے ہوا بھڑکی چھاؤں تھی ذرا ٹھنڈی ہم دھوپ میں جا بیٹھے ایام کے چہرے کو جب دھوپ جھلستی ہو کوہرائی سی یادوں کی ہم شمع جلا بیٹھے ارمان مچلتے ہیں لہروں کی نگاہوں میں ہم وقت کے ساحل پر دو پھول کھلا بیٹھے کچھ بات رہی ہوگی کچھ ڈانٹ پڑی ہوگی وہ روئے تھے ہم اس دن اس کو ہی رلا بیٹھے پھولوں کی بلائیں لو کانٹوں کو دعائیں دو گلشن کی اداؤں کو کیا دل سے لگا بیٹھے
lafzon ke talaatum mein aahang jagaa baiThe
تلخیوں کے شہر میں یوں نغمہ خواں کوئی تو ہو دل ربا شیریں سخن شیریں زباں کوئی تو ہو آب و گل کی تشنگی پر مہرباں کوئی تو ہو رنگ و بو کی برہمی کا رازداں کوئی تو ہو ڈوب جانے دو ابھرتا ہے نئے آفاق پر صبح جس پر ہو فدا ایسا جہاں کوئی تو ہو ہر نفس تازہ کسک تازہ جگر تازہ لہو یاد کہتی ہے پرانی داستاں کوئی تو ہو جاتے جاتے کہہ گئی کانوں میں کانٹوں کے بہار پھول تو کھلتے رہیں گے پاسباں کوئی تو ہو بام و در کی بے صدا بیگانگی ڈسنے لگی ڈھونڈئیے ایسی جگہ اپنا جہاں کوئی تو ہو آگہی تو سرحدوں کی قید سے آزاد ہے لاکھ چاہے کم نگاہی آسماں کوئی تو ہو خواہشوں میں مشورے ہیں اس بھرے بازار میں دل اٹک جائے جہاں ایسی دکاں کوئی تو ہو بات کہنے کا مزہ ہے بات سننے کا مزہ ہم سخن کوئی تو ہوتا ہم زباں کوئی تو ہو اپنی اپنی چاہتیں ہیں اپنی اپنی نعمتیں ہم بھی چاہیں بجلیاں بھی آشیاں کوئی تو ہو بے یقینی سے یقیں کو زندگی ملتی رہی آگہی کی دلبری کا نغمہ خواں کوئی تو ہو
talkhiyon ke shahr mein yuun naghma-khvaan koi to ho
راستہ کوئی مل گیا ہوتا دو قدم تو اگر چلا ہوتا میں نہ ہوتا تو کیا ہوا ہوتا کیا دعا ہوتی کیا خدا ہوتا وقت کی بھیڑ میں اکیلا تھا ساتھ چلتا تو رہنما ہوتا پارساؤں کی انجمن ہوتی پارسائی ترا بھلا ہوتا تیرے ہوتے ہوئے ہوا کیا کیا تو نہ ہوتا تو کیا ہوا ہوتا وہ ہے کس کا جو ہر کسی کا ہے میرا اپنا کوئی خدا ہوتا ہم سفر اپنے آشنا ہوتے جسم و جاں میں نہ فاصلہ ہوتا زخم دینے کی آرزو کی تھی زخم کھانے کا حوصلہ ہوتا عشق درماں ہے عشق بازی کا جان لیتے تو کیا مزہ ہوتا
raasta koi mil gayaa hotaa
الجھنوں کا سرا نہیں ملتا کیا کریں مدعا نہیں ملتا اشتہاروں نے گھیر لی دیوار میرے گھر کا پتا نہیں ملتا روٹھ جاتے ہیں لفظ معنی سے آسماں پر خدا نہیں ملتا ہر نیا پل ہے اک نیا احساس ہر کسی کو مزہ نہیں ملتا اب تو قانون کی چلے ہے میاں اب بھلے کو بھلا نہیں ملتا حادثوں کی کسے شکایت ہے حادثوں کا صلہ نہیں ملتا پھول کانٹے ہیں دھوپ چھاؤں ہے پیڑ پودوں میں کیا نہیں ملتا تلخیوں میں مٹھاس چکھتا ہوں درد دل کے سوا نہیں ملتا آنکتا ہوں یقیں کی گہرائی جانتا ہوں خدا نہیں ملتا بے سبب حادثے نہیں ہوتے رنج بھی بے وجہ نہیں ملتا ہر کسی سے وفا نہیں ملتی ہر کوئی بے وفا نہیں ملتا تم خدا کی تلاش کرتے ہو آدمی کا پتہ نہیں ملتا تیرے ماضی کے ان صحیفوں میں حال کا جائزہ نہیں ملتا
uljhanon kaa siraa nahin miltaa
اندھیرے میں اجالا سا لگے ہے مجھے اب غیر بھی اپنا لگے ہے بھرے بازار میں تنہا لگے ہے وہ ہر پردے میں بے پردہ لگے ہے مرے دل میں کھٹکتی ہے تمنا مجھے ہر پھول اب کانٹا لگے ہے مداری نے پتے کی بات کہہ دی مرا بندر مجھے دانا لگے ہے جسے پایاب سمجھا وہ کنارہ سمندر سے کہیں گہرا لگے ہے گزرنا ہے تجھے پھر امتحاں سے وہ اپنے قول سے پھرتا لگے ہے تجھے دو بوند پانی کون دیتا سمندر بھی یہاں پیاسا لگے ہے لہو روتی ہیں آنکھیں جس کی خاطر مرا رونا اسے گانا لگے ہے پرانی رسم ہے جوں توں نبھاؤ نئے حالات سے ڈر سا لگے ہے گھٹا کی چھاؤں سے وادی میں اترو شگوفہ سا وہاں کھلتا لگے ہے اسی احساس کے دم سے ہوں زندہ تری آنکھوں میں کچھ اپنا لگے ہے
andhere mein ujaalaa saa lage hai





