Qadeer Lakhnavi
na sochaa na samjhaa na sikhaa na jaanaa
نہ سوچا نہ سمجھا نہ سیکھا نہ جانا مجھے آ گیا خود بہ خود دل لگانا ذرا دیکھ کر اپنا جلوہ دکھانا سمٹ کر کہیں آ نہ جائے زمانا زباں پر لگی ہیں وفاؤں کی مہریں خموشی مری کہہ رہی ہے فسانا گلوں تک رسائی تو آساں ہے لیکن ہے دشوار کانٹوں سے دامن بچانا کرو لاکھ تم ماتم نوجوانی قدیرؔ اب نہیں آئے گا گزرا زمانا