Qadr Aurangabadi
Qadr Aurangabadi
Qadr Aurangabadi
Ghazalغزل
doston gul kaa ye fasaanaa hai
دوستوں گل کا یہ فسانا ہے آج ٹک سنیو کیا زمانا ہے مجھ کو کہنے لگا وو تنہا گرد دوستی تجھ کو گر نبھانا ہے سات پھر مت مرے گلی بہ گلی تجھ کو کوئی جانے گا دوانا ہے یہ روش خوب نئیں تری ناداں عشق عالم کو کیا جتانا ہے مجھ کماں ابرو سات جو آیا تیر مژگاں کا وہ نشانا ہے میں کیا عرض اے کرم فرما عاشقوں کو یہ کیا ستانا ہے دیکھنا تیرا ہر گھڑی مجھ کو زندگی کا یہی بہانا ہے ورنہ میں کب سے مر چکا ہوتا صرف یہ کیا زباں پہ لانا ہے سب سمجھ بوجھ کر ارے ظالم آپ ہنسنا مجھے رلانا ہے تب وہ غصہ سے شوخ کہنے لگا اب میں جانا کہ تو دوانا ہے ووہیں آیا زباں پہ یہ مطلع دل بھی کس طور کا سیانا ہے دوستی تب ہی کچھ نبھانا ہے بات کہنے میں روٹھ جانا ہے
saaqi gayaa hai ruuTh ke ham se hazaar-haif
ساقی گیا ہے روٹھ کے ہم سے ہزار حیف آتی ہے کیوں تو دھوم سے اب کے بہار حیف کل شوخ سے دو چار میں ہو راہ میں کہا کس کا ملے ہو ہات میں خوں کو نگار حیف کہنے لگا کہ کچھ ہے تجھے سوجھتا نہیں اندھے یہ ہے حنا تو نہ کہہ بار بار حیف نیں تو قسم خدا کی میں سمجھوں گا بے طرح کچھ بھی شعور ہے تجھے اے بد شعار حیف میں نے کہا کہ بخشو میاں لو خدا کا نام اچھے ہو تم بھی روز ہو لیکن ہزار حیف مجنوں صفت پھروں ہوں میں صحرا میں تو بھی ہائے اے لیلی وش کیا نہیں بوس و کنار حیف رویا ہوں بسکہ ہجر میں آنکھیں ہوئیں سفید مدت گزر گئیں نہ ملا تو تو یار حیف اوس بے وفا نیں سن کے غضب سے کہا مجھے کس دن کیا تھا مجھ پہ دل اپنا نثار حیف میں تجھ کو جانتا ہی نہیں ہوں خدا کی سوں آوے ہے مجھ کو ہونے سے تیرے دو چار حیف وقتے کہ تل رخان جہاں کا یہ رنگ ہو پھر زندگی جہان میں کیجے ہزار حیف





