
Qaisar Amravatwi
Qaisar Amravatwi
Qaisar Amravatwi
Ghazalغزل
آرزوئیں جل گئیں شوق فراواں جل گیا بجھ گیا دل زندگی کا ساز و ساماں جل گیا موسم گل تھا کہ تھی برق خزاں زیر نقاب پھول ہنسنے بھی نہ پائے تھے گلستاں جل گیا شوق منزل میں جنوں کی گرم رفتاری نہ پوچھ راہ کے کانٹوں کی کیا ہستی بیاباں جل گیا جھوم کر سوئے چمن آیا تو کیا برسا تو کیا آشیاں تو کب کا اے ابر بہاراں جل گیا حشر کے دن رحمت حق نے لیا آغوش میں ذوق عصیاں پر مرے زاہد کا ایماں جل گیا دیکھ قیصرؔ یہ ہے گلشن میں مآل فصل گل غنچے غنچے کا گلستاں میں گریباں جل گیا
aarzuein jal gaiin shauq-e-faraavaan jal gayaa
عشق کیا ہے غم ہستی کا فنا ہو جانا پیکر خاک کا مٹ مٹ کے خدا ہو جانا یہ دو دو جہاں ہے تری زلفوں کا اسیر راس آیا ہے اسے صید بلا ہو جانا نا خدائی پہ ہے ناز اہل سفینہ ہشیار نا خدا چاہتا ہے آپ خدا ہو جانا سینکڑوں سجدوں میں واعظ کو ہوا ہے حاصل زینت محفل ارباب ریا ہو جانا فیض عاصی ہے کہ اس بزم سخن میں قیصرؔ ہے میسر مجھے یوں گرم نوا ہو جانا
ishq kyaa hai gham-e-hasti kaa fanaa ho jaanaa
برنگ نکہت گل ہے چمن میں آشیاں اپنا کسی کے راز داں ہم ہیں نہ کوئی رازداں اپنا چلے تو جا رہے ہیں کیا بتائیں کل کہاں ہوں گے خدا معلوم کس منزل پہ ٹھہرے کارواں اپنا یہی اچھا ہوا محفل میں تیری چپ رہے ورنہ غم دل کی کہانی اور پھر طرز بیاں اپنا سپرد عشق ہم تو کر چکے سرمایۂ ہستی جو اہل ہوش ہیں سوچا کریں سود و زیاں اپنا ہوا ہی چاہتی ہے شام بھی اب صبح پیری کی مگر اب تک تو ہے پہلو میں قیصرؔ دل جواں اپنا
ba-rang-e-nikhat-e-gul hai chaman mein aashiyaan apnaa
خدا کو بھولے نہ جب تک ہمیں خدا نہ ملا یہ مدعا بھی بجز ترک مدعا نہ ملا قدم قدم پہ نہ کیوں سجدہ ریزیاں کر لوں حضور حسن یہ موقع ملا ملا نہ ملا کلیم طور یہ کیوں طور پر گری بجلی نگاہ ناز کو کیا کوئی با وفا نہ ملا اڑا کے لے گئی پرواز شوق منزل تک عدم کی راہ میں کوئی شکستہ پا نہ ملا قفس میں آئے اجل یا مریں نشیمن میں دو روزہ زیست کا ہم کو کہیں مزا نہ ملا جنون شوق کی خودداریاں معاذ اللہ مزاج داں کوئی قیصرؔ کو رہنما نہ ملا
khudaa ko bhule na jab tak hamein khudaa na milaa
فریب رنگ نہ دے جلوۂ بہار مجھے عزیز تر ہیں چمن میں گلوں سے خار مجھے مری خطاؤں پہ یہ باز پرس مالک حشر عطا ہوا تھا کبھی دل پہ اختیار مجھے یہ ان کی یاد یہ طوفان رنگ و بو توبہ ملی تو درد میں ڈوبی ہوئی بہار مجھے اب اس مقام پہ منزل ہے درد پیہم کی کہ ہر تڑپ میں ملی لذت قرار مجھے چمن میں رہ کے یہ محرومیاں مقدر کی کہ میں بہار کو دیکھا کروں بہار مجھے خدا کبھی نہ دکھائے وہ روز بد قیصرؔ کہ آئے جلوۂ باطل کا اعتبار مجھے
fareb-rang na de jalva-e-bahaar mujhe





