SHAWORDS
Q

Qaisar Ansari

Qaisar Ansari

Qaisar Ansari

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کروں روشن میں کب تک خون سے غم کے شبستاں کو طبیعت چاہتی ہے پھونک دوں جشن چراغاں کو وہاں پہنچا دیا ہے مجھ کو عرفان حقیقت نے جہاں چہرے سے پہچانا ہے میں نے ظرف انساں کو تجلی معرفت خلوت تصوف عشق کیا شے ہے مری لغزش بتائے گی یہ باتیں اہل عرفاں کو مجھے اے ناخدا خطروں سے کیوں آگاہ کرتا ہے لب ساحل پہنچ کر دیکھ لوں گا نبض طوفاں کو اسیران قفس پر تبصرے کا حق نہیں ان کو جو حد آشیاں سے دیکھتے رہتے ہیں زنداں کو نہیں ہوتا انہیں کچھ خوف طوفان و حوادث کا جو بحر غم میں اپنا ہم سفر رکھتے ہیں طوفاں کو حقیقت میں سخن فہمی بہت مشکل ہے اے قیصرؔ سمجھنے میں غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے انساں کو

karun raushan main kab tak khuun se gham ke shabistaan ko

1 views

غزل · Ghazal

آ گئے تو اور بھی نزدیک آنا چاہیے اب پرانی رنجشوں کو بھول جانا چاہیے ہم جہاں تھے اس سطح سے اور نیچے آ گئے اس زمانے تک پہنچنے کو زمانہ چاہیے اے جنوں کچھ دیر یہ شغل ہوا خوری سہی خشک پتوں کو ہواؤں میں اڑانا چاہیے گھر میں ہم محفوظ رہ کر بھی حفاظت سے نہیں شہر کا موسم بدلنے کو زمانہ چاہیے پاؤں میں زنجیر اور ہاتھوں میں ہے سیف و قلم سوچیے اس شہر میں رہنا کہ جانا چاہیے لرزاں لرزاں تھرتھراہٹ کا اثر جس میں نہ ہو زلزلوں کے سامنے وہ آشیانہ چاہیے نازکی یوں ہے غزل کی دھوپ میں جیسے گلاب سایہ سایہ شعر اے قیصرؔ سنانا چاہیے

aa gae to aur bhi nazdik aanaa chaahiye

غزل · Ghazal

تصور کی نزاکت بڑھ کے جب معیار تک پہنچی جو صورت سامنے آئی مرے اشعار تک پہنچی دو روزہ زندگی کی لغزشوں میں طول ہے کتنا ذرا سی بات بڑھ کر حشر کے بازار تک پہنچی فضائے گلستاں پر ایک سناٹا ہوا طاری اسیران قفس کی آہ جب گلزار تک پہنچی وہ حسن زندگی اس دور میں پیدا کرے کوئی زلیخا جس کو لینے مصر کے بازار تک پہنچی معمہ دشمنی کا دوستی سے حل ہوا قیصرؔ مری شرح محبت جب لب اغیار تک پہنچی

tasavvur ki nazaakat baDh ke jab me'yaar tak pahunchi

Similar Poets