SHAWORDS
Q

Qaisar Qalandar

Qaisar Qalandar

Qaisar Qalandar

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

is tiira sarzamin se misaal-e-qamar chalo

اس تیرہ سرزمیں سے مثال قمر چلو دیکھو فراز نور و نشیب سفر چلو بانہیں اٹھائے یاد کوئی دل نواز یاد تم کو پکارتی ہے سر رہ گزر چلو دیکھو وہ کربلائے تمنا ہے اس طرف صحرا لہو لہو ہے چلو بے خطر چلو آنکھوں میں آرزو کے جلاتے رہو چراغ تاریکیوں سے نور اگاؤ مگر چلو کہرام خواہشوں کا بپا ہے قدم قدم اپنی متاع درد لیے سوچ کر چلو ہر منظر حیات یہاں ہے شفق شفق رنگ حنا سے تم نہ بچا کر نظر چلو شائستۂ بہار ہے ہر منظر خزاں نغموں کا شامیانہ سجے نغمہ گر چلو میں شوق نا تمام ہوں اک حسن ناتمام میرے لیے کرو نہ کبھی آنکھ تر چلو

غزل · Ghazal

ye dard-e-laa-zavaal tumhein kaun de gayaa

یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا سرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیا موسیقیوں کی چاندنی نکھری ہے لفظ لفظ یہ عشرت خیال تمہیں کون دے گیا اس وادیٔ سکون و مسرت کے باوجود یہ رنج یہ ملال تمہیں کون دے گیا کب تک تلاش کیجیئے آسودہ حالیاں افسردہ ماہ و سال تمہیں کون دے گیا دل کے قریب ہجر کی رت خیمہ زن ہوئی تہنیت وصال تمہیں کون دے گیا مفقود ہو گئی ہیں یہاں لب کشائیاں یہ ڈھیر بھر سوال تمہیں کون دے گیا رعنائیوں کے لب پہ مکرر سوال ہے بے عیب خد و خال تمہیں کون دے گیا

غزل · Ghazal

jab dard ki shamein jalti hain ehsaas ke naazuk siine mein

جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میں اک حسن سا شامل ہوتا ہے پھر تنہا تنہا جینے میں کچھ لطف کی گرمی کی خاطر کچھ جان وفا کے صدقے میں گیسوئے الم کے سائے میں راحت سی ملی ہے پینے میں آغوش تمنا چھو آئیں جب زلف یار کی خوشبو میں آنکھوں میں ساون لہرایا دیپک سا سلگا سینے میں موسیقیٔ حسن کی موجیں تھی کچھ آنکھوں میں کچھ پیالوں میں جو ساحل دل تک ہو آئیں یادوں کے ایک سفینے میں پلکوں میں سلگتے تاروں سے میں رات کی افشاں چن نہ سکا شعلوں کو چھپائے پھرتا ہوں میں دل کے ایک نگینے میں وہ رنگ حیا احساس طرب آئینۂ رخ کے عکس فگن اک تابش تیرے چہرے کی اک آنچ سی میرے سینے میں کلیوں نے گھونگھٹ سرکائے شبنم نے موتی رول دئے لذت سی ملی ہے اشکوں سے یہ چاک جگر کا سینے میں نغموں کی چاندنی چھٹکی ہے شعروں کے شبستاں مہکے ہیں پھر ساز غزل لے آیا ہوں اک لطف ہے اکثر جینے میں

غزل · Ghazal

tujh se bichhaD ke dard tiraa ham-safar rahaa

تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہم سفر رہا میں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھا یہ اور بات رات جواں تھی جواں رہی ساقی اداسیوں کے مجھے جام دے گیا بازار وقت سے کہاں جنس وفا گئی تنہا ہے ماہ مصر کا جلتا ہوا دیا تاریک تھی یہ رات مگر یاد کی کرن آئی تو نور حسن کا دروازہ پھر کھلا حائل ہوئے دلوں پہ یہ انجانے فاصلے پہلے ہمارے درمیاں کوئی فاصلہ نہ تھا ہاتھوں میں رات آس کی شمعیں لئے ہوئے تاریکیوں میں تجھ کو پکارا ہے بارہا اے جنت خیال نگاہ فسوں شعار قیصرؔ کو اپنے گیسوؤں میں آج پھر چھپا

غزل · Ghazal

ai ham-nafaso dard ki ye raat kaDi hai

اے ہم نفسو درد کی یہ رات کڑی ہے سر تھامے ہوئے دل میں کہیں آس کھڑی ہے ہم رنگ شفق ہے دل معصوم کا عالم وہ دور تمنا کی سحر چپ کے کھڑی ہے اجلی تھی تری یاد کی یہ زرد سی پتی خاکستر ایام میں خاموش پڑی ہے ان آنکھوں میں پھر دیکھا حیا رنگ تبسم رستے میں قضا سے مری پھر آنکھ لڑی ہے پھر دست صبا نے وہ گجر آج بجایا پلکوں پہ پھر اک بار مری نیند اڑی ہے پھر شہر غزالاں میں غزل لایا ہے قیصرؔ صورت کدۂ حسن میں پھر دھوم پڑی ہے

Similar Poets