SHAWORDS
Qaisar Siddiqi

Qaisar Siddiqi

Qaisar Siddiqi

Qaisar Siddiqi

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

aalam-e-be-chehragi mein kaun kis kaa aashnaa

عالم بے چہرگی میں کون کس کا آشنا آج کا ہر لفظ ہے مفہوم سے نا آشنا کون ہوتا ہے زمانے میں کسی کا آشنا لوگ ہونا چاہتے ہیں خود زمانہ آشنا سوچتا ہوں کون سی منزل ہے یہ ادراک کی ذرہ ذرہ آشنا ہے پتا پتا آشنا چاٹ جاتی ہے جنہیں سورج کی پیاسی روشنی کاش ہو جائیں کسی دن وہ بھی دریا آشنا تشنگی آئی سرابوں سے گزر کر آب تک ساحل دریا مگر اب تک ہے صحرا آشنا ذوق خود بینی کی تسکین انا کے واسطے کتنے ہی نا آشناؤں کو بنایا آشنا کاش ہو جائے تری آنکھوں پہ خوابوں کا نزول کاش ہو جائے ترا دل بھی تمنا آشنا کون پہچانے گا ہم کو کون پوچھے گا مزاج کون ہے اپنے سوا قیصرؔ ہمارا آشنا

غزل · Ghazal

jab tiri yaadon ki purvaai ghazal gaati hai

جب تری یادوں کی پروائی غزل گاتی ہے پھول کھل اٹھتے ہیں تنہائی غزل گاتی ہے رقص کرتی ہوئی آتی ہے ترے جسم کی یاد تیری ٹوٹی ہوئی انگڑائی غزل گاتی ہے گدگداتی ہے تصور کو ترے روپ کی دھوپ میرے جذبات کی شہنائی غزل گاتی ہے ایک مدت ہوئی اس راہ سے گزرا تھا کوئی آج تک دل کی یہ انگنائی غزل گاتی ہے نغمے سرگوشی کے لہراتے ہیں پنگھٹ پنگھٹ تہمتیں ہنستی ہیں رسوائی غزل گاتی ہے جھوم جھوم اٹھتا ہے ساقی ترے قیصرؔ کا خیال جب تری آنکھوں کی گہرائی غزل گاتی ہے

غزل · Ghazal

rah-e-hayaat ko aasaan banaa sako to chalo

رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلو ہمارا ساتھ اگر تم نبھا سکو تو چلو نگاہ ناز کا جادو جگا سکو تو چلو قدم قدم پہ نئے گل کھلا سکو تو چلو رہ وفا میں غموں کے بہت اندھیرے ہیں ہر ایک حال میں تم مسکرا سکو تو چلو مرے خیال کی دنیا ہے مجھ پہ چھائی ہوئی مرے خیال کی دنیا پہ چھا سکو تو چلو بڑے خلوص سے چہرے فریب دیتے ہیں نگاہ بن کے دلوں میں سما سکو تو چلو سجا کے رات کے ماتھے پہ چاند کا جھومر مجھے اندھیرے میں رستہ دکھا سکو تو چلو نئی ہے راہ تو قیصرؔ نئی نگاہ بھی ہو نئی حیات کے نغمے سنا سکو تو چلو

غزل · Ghazal

kyaa chiiz hai uzr-e-lab-e-izhaar kaa saaya

کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہ اقرار کا سایہ کبھی انکار کا سایہ تقدیر گلستاں کی بدل دیتا ہے وہ پھول پڑ جاتا ہے جس پھول پہ تلوار کا سایہ دیوار سے دیوار کی دوری ارے توبہ پڑتا نہیں دیوار پہ دیوار کا سایہ احساس کی انگلی سے ٹپکتے ہیں ستارے چبھتا ہے مرے ذہن میں جب خار کا سایہ قیصرؔ مرے جذبات میں نغموں کی لچک ہے ہے فن پہ مرے گیسوئے خم دار کا سایہ

غزل · Ghazal

aarzu naakaam ho kar rah gai hai

آرزو ناکام ہو کر رہ گئی ہے زندگی الزام ہو کر رہ گئی ہے خواب تعبیروں کے معنی پوچھتے ہیں نیند بے انجام ہو کر رہ گئی ہے یاد بھی قاتل کی ہے شمشیر قاتل رات خوں آشام ہو کر گئی ہے وقت نے دستار کی صورت بدل دی اب تو یہ احرام ہو کر رہ گئی ہے زہر میں ڈوبی ہوئی اک مسکراہٹ موت کا پیغام ہو کر رہ گئی ہے ناچتی ہیں دھان کے کھیتوں میں پریاں یہ گھٹا انعام ہو کر رہ گئی ہے گفتگوئے دل بہ عنوان محبت سر بسر الزام ہو کر رہ گئی ہے گردش جام و سبو کو کیا ہوا ہے گردش ایام ہو کر رہ گئی ہے

غزل · Ghazal

kyuun na afsaana-e-gham kaif kaa unvaan Thahre

کیوں نہ افسانۂ غم کیف کا عنواں ٹھہرے شدت درد ہی جب درد کا درماں ٹھہرے جس جگہ ہم سا کوئی چاک گریباں ٹھہرے شوق سے آ کے وہاں فصل بہاراں ٹھہرے اس کے دامن کی طرف ہاتھ بڑھاؤں کیسے جس کے دامن کی مہک شعلگیٔ جاں ٹھہرے منزلیں آتی ہیں اور آ کے گزر جاتی ہیں دیکھیے جا کے کہاں قافلۂ جاں ٹھہرے پچھلے وعدے جو نہیں یاد تو کیا بات ہوئی پھر کوئی عہد وفا پھر کوئی پیماں ٹھہرے آپ کو دیکھوں تو ہو دور مری تشنہ لبی آپ آ جائیں تو جذبات کا طوفاں ٹھہرے شوخیٔ دست صبا سے تو کوئی کچھ نہ کہے میرے سر تہمت گیسوئے پریشاں ٹھہرے

Similar Poets