SHAWORDS
Qamar Anjum

Qamar Anjum

Qamar Anjum

Qamar Anjum

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

vo jaan-e-intizaar aae na aae

وہ جان انتظار آئے نہ آئے مرے دل کو قرار آئے نہ آئے یقیں ہے آئے گا دور مسرت کسی کو اعتبار آئے نہ آئے خزاں کا دور تو ہو جائے رخصت گلستاں میں بہار آئے نہ آئے کسے معلوم کب وہ روٹھ جائیں محبت سازگار آئے نہ آئے بلایا اس نے ہے تو جاؤں گا میں یہ موقع بار بار آئے نہ آئے

غزل · Ghazal

shaam-e-vaada hai agar ab bhi na vo aae to phir

شام وعدہ ہے اگر اب بھی نہ وہ آئے تو پھر اور اس غم میں جو دھڑکن دل کی رک جائے تو پھر جس سے تم دامن کشاں ہو زندگی کی راہ میں روح کی گہرائیوں میں وہ اتر جائے تو پھر تجھ کو ہے جس کی وفاؤں پر نہایت اعتماد ریزہ ریزہ کر کے وہ تجھ کو بکھر جائے تو پھر امن کا پرچم لئے پھرتے ہو سارے شہر میں اور ننگ آدمیت تم ہی کہلائے تو پھر لکڑیوں کے گھر میں مٹی کا دیا اچھا نہیں روشنی کے بدلے اس میں آگ لگ جائے تو پھر

غزل · Ghazal

us ko nazraana-e-jaan pesh kiyaa hai main ne

اس کو نذرانۂ جاں پیش کیا ہے میں نے یوں ثبوت اپنی وفاؤں کا دیا ہے میں نے اے مرے دامن صد چاک پہ ہنسنے والے یاد کر تیرا گریباں بھی سیا ہے میں نے خود کشی کی مرے دل نے مجھے دی ہے ترغیب جب کسی غیر کا احسان لیا ہے میں نے غیرت عشق کو پامال نہ ہونے دوں گا زندگی تجھ سے یہی عہد کیا ہے میں نے اے مری خاک وطن تجھ سے میں شرمندہ نہیں بارہا اپنا لہو تجھ کو دیا ہے میں نے یوں تو مرنے کے لئے زہر پیا جاتا ہے زندگی تیرے لئے زہر پیا ہے میں نے زندگی مجھ سے بچانے لگی دامن انجمؔ جب غم دل کو فراموش کیا ہے میں نے

غزل · Ghazal

raabta rakh tirgi se raushni ko chhoD de

رابطہ رکھ تیرگی سے روشنی کو چھوڑ دے جو اذیت ناک ہو ایسی خوشی کو چھوڑ دے جانتے سب ہیں کہ اس کے بعد ہے دور خزاں کیوں نہ دامان بہار زندگی کو چھوڑ دے وقت اپنے آپ میں اک فتنۂ بیدار ہے وقت کے کہنے پہ کوئی کیوں کسی کو چھوڑ دے اس سے پہلے تجھ کو نظروں سے گرا دے یہ جہاں مان لے کہنا خدارا بے حسی کو چھوڑ دے وقت پر انجمؔ نہ تیرے کام آئے گا کوئی دوستوں سے پھیر لے منہ دوستی کو چھوڑ دے

غزل · Ghazal

jazba-e-ishq kaa izhaar na hone paae

جذبۂ عشق کا اظہار نہ ہونے پائے حسن رسوا سر بازار نہ ہونے پائے مدتوں محفل ساقی میں رہے ہیں لیکن جام چھونے کے گنہ گار نہ ہونے پائے بزم احباب میں آیا ہوں مگر ڈر یہ ہے کوئی فتنہ پس دیوار نہ ہونے پائے آؤ تعمیر کریں ایسا محبت کا مکان وقت کے ہاتھوں جو مسمار نہ ہونے پائے جن کے سینوں میں محبت کی کرن تھی انجمؔ خواہشوں میں وہ گرفتار نہ ہونے پائے

Similar Poets