
Qamar Malal
Qamar Malal
Qamar Malal
Ghazalغزل
نہ کسی حرص نہ ہوس کے لیے ہم یہاں آئے اہل لس کے لیے مجھ پہ بس اک نگہ کہ کافی ہے ایک چنگاری خار و خس کے لیے زندگانی کے خستہ اڈے پر ہم کھڑے ہیں اجل کی بس کے لیے رزم بزم سخن کو سمجھو تو تنہا کافی ہوں آٹھ دس کے لیے دوستوں نے ترے بچھڑنے پر مری بربادیوں کے چسکے لیے پھر بہاروں نے راستہ روکا گھر سے نکلے تھے ہم قفس کے لیے عشق کا کھیل کھیلتے ہیں لوگ نرم جسموں پہ دسترس کے لیے ناز کیا اے قمرؔ جوانی پر یہ تو ہوتی ہے کچھ برس کے لیے
na kisi hirs na havas ke liye
وہ حسیں گھڑی وہ سنہرا پل نہیں بھولتا جو بتایا تھا ترے ساتھ کل نہیں بھولتا کہاں چوٹ آئی تھی گر کے یاد نہیں مگر وہ کسی کا کہنا ذرا سنبھل نہیں بھولتا تجھے کہہ دیا جو پتا چلا مجھے عشق ہے جسے علم ہو وہ کبھی عمل نہیں بھولتا میں یہ کیسے مان لوں مجھ کو اس نے بھلا دیا کہ مری کہی جو کوئی غزل نہیں بھولتا اسے کیسے یاد نہ آئے تو ذرا سوچ تو کہ ملالؔ جس سے ترا بدل نہیں بھولتا
vo hasin ghaDi vo sunahraa pal nahin bhultaa





