
Qasim Hayat
Qasim Hayat
Qasim Hayat
Ghazalغزل
یہ پیاس بجھتی نہیں تھی چناب رکھتے تھے ہم اپنے دشت میں کیا کیا سراب رکھتے تھے سمے کی رو میں بہے جا رہے ہیں ایک ہی سمت گئے وہ دن کہ دنوں کا حساب رکھتے تھے جنوں کے ساتھ خرد بھی سرشت میں رکھی سلیقہ بھی ترے خانہ خراب رکھتے تھے کہاں گئے وہ جو روشن تھے طاقچوں میں چراغ کہاں گئے وہ جو آنکھوں میں خواب رکھتے تھے ہمارا واسطہ مچھلی سے جل سے جال سے تھا سو ایک دنیا الگ زیر آب رکھتے تھے زمیں پہ گھومتے رہتے تھے سارا دن قاسمؔ فلک سے رات سوال و جواب رکھتے تھے
ye pyaas bujhti nahin thi chanaab rakhte the
قبول کرتے ہوئے اجتناب کرتے ہوئے کوئی خلش سی رہی انتخاب کرتے ہوئے کچھ اتنا فاصلہ تھا مجھ میں اور قافلے میں سفر تمام ہوا ہم رکاب کرتے ہوئے یہ کس کا نام ابھرنے لگا ہے کاغذ پر بیاض عمر ترا انتساب کرتے ہوئے خود اپنے آپ پہ ترتیب وار کھلتا ہوں رموز کون و مکاں بے حجاب کرتے ہوئے عجیب یافت و نقصان ہے محبت کا میں شرمسار ہوا ہوں حساب کرتے ہوئے تمھارے بعد میں دنیا کی سمت دیکھتا ہوں دل و نگاہ کو وقف عذاب کرتے ہوئے
qubul karte hue ijtinaab karte hue
میرے ہونے کے وہ نشاں کھولے آگ کے معنی تو دھواں کھولے دائرہ وار محو حرکت ہیں کوئی تاروں کی رسیاں کھولے رنگ دیوار خستہ کو بدلے زنگ آلود کھڑکیاں کھولے کون دنیا کے بارے میں سوچے کون یہ الجھی گتھیاں کھولے میں نے کس کس جگہ تمہیں دیکھا میں نے بازو کہاں کہاں کھولے پیڑ سنتے ہیں گفتگو اس کی پھول تکتے ہیں پتیاں کھولے بار کچھ کم ہو سینے سے قاسمؔ کوئی تعویذ رائیگاں کھولے
mere hone ke vo nishaan khole
خبر کرو انہیں یہی تو فیصلے کا وقت ہے جو فصل بو گئے تھے اس کو کاٹنے کا وقت ہے میں چڑھ رہا ہوں دوسری طرف سے کوہ طور پر خدا کو آج سامنے سے دیکھنے کا وقت ہے کوئی کلی چٹخ کے میرے کان میں یہ کہہ گئی بہار اتر رہی ہے گاؤں لوٹنے کا وقت ہے جو گہرے پانیوں کی اور بڑھ رہے ہیں ماہی گیر انہیں کہو یہ کشتیوں کو روکنے کا وقت ہے ادھر کوئی بلا رہا ہے قتل گاہ کی طرف ادھر صف عزا ہے رونے پیٹنے کا وقت ہے مقابلے پہ عورتیں ہیں بچے ہیں ضعیف ہیں لڑائی میں سپاہیوں کے سوچنے کا وقت ہے
khabar karo unhein yahi to faisle kaa vaqt hai
ہماری آنکھ سے بڑھ کر اداس کوئی نہیں مگر قبیلے میں چہرہ شناس کوئی نہیں عصائے موسیٰ ذرا ایک ضرب سینے پر ابلتے چشموں کو راہ نکاس کوئی نہیں اکیلا میں ہی نہیں پیڑ بھی پریشاں ہیں یہاں کی آب و ہوا سب کو راس کوئی نہیں اتر تو جائے گی مجھ میں شعاع اندر تک سیاہ آئنے سے انعکاس کوئی نہیں اکیلے پن کا جو دکھ ہے اسے مٹانے کو ملوں گا آج خدا سے کہ پاس کوئی نہیں
hamaari aankh se baDh kar udaas koi nahin





