
Qasim Raza Mustafai
Qasim Raza Mustafai
Qasim Raza Mustafai
poet
2Ghazal
Ghazalغزل
غزل · Ghazal
be-sabab hansne muskuraane se
بے سبب ہنسنے مسکرانے سے رنج چھپ جائے گا زمانے سے وقت کی واپسی نہیں ہوتی گھڑی کی سوئیاں گھمانے سے آگہی کا مرض لگا ہم کو اک محبت کے کارخانے سے کتنے منظر بدل گئے ہیں دوست گھر کی دیوار کو گرانے سے ہم پہ واجب تھا احترام اس کا اس کو نسبت تھی اک گھرانے سے
غزل · Ghazal
ek do tiin nahin saare qabaail kar le
ایک دو تین نہیں سارے قبائل کر لے کوئی منطق ہے ترے پاس جو قائل کر لے جرم ثابت ہے معافی تو نہیں ہو سکتی پیش کرنے ہیں اگر تو نے دلائل کر لے صف اول کا سپاہی ہوں سو مرنے سے رہا اب تو آیا ہے تو یوں کر مجھے گھائل کر لے قحط ہوں اور ترے شہر میں پڑ سکتا ہوں جتنے کر سکتا ہے مٹھی میں وسائل کر لے اتنا کچا نہیں قاسمؔ کہ حقیقت کے سوا اپنی بینائی کسی خواب پہ زائل کر لے





