
Qazi Hasan Raza
Qazi Hasan Raza
Qazi Hasan Raza
Ghazalغزل
munaasib nahin aasraa maangnaa
مناسب نہیں آسرا مانگنا دعا مانگنا بھی تو کیا مانگنا اگر آندھیوں سے ملاقات ہو ہمارے لیے بھی ہوا مانگنا کناروں کی امید گرداب سے کناروں سے موج بلا مانگنا تذبذب کے عالم میں سوچا کیے دعا مانگنا یا دوا مانگنا جہاں بٹ رہی ہو خوشی تول کر وہاں درد بے انتہا مانگنا عجب راستے کے مسافر ہیں ہم نہ آیا ہمیں راستہ مانگنا اسی دن رضاؔ موت آ جائے گی کسی دن اگر پڑ گیا مانگنا
insaan huun main bhi mujh se ye kab puchhte hain log
انساں ہوں میں بھی مجھ سے یہ کب پوچھتے ہیں لوگ جب پوچھتے ہیں نام و نسب پوچھتے ہیں لوگ میری تباہیوں میں برابر کے ہیں شریک پھر کیوں تباہیوں کا سبب پوچھتے ہیں لوگ کیسے میں بچ کے آ گیا یہ پوچھتے نہیں کشتی کے ڈوبنے کا سبب پوچھتے ہیں لوگ منکر نکیر بن کے کھڑے ہیں ہر ایک سمت بندہ ہے کس کا کون ہے رب پوچھتے ہیں لوگ وجہ فساد کون تھا کس کو سزا ملی کیوں جل گئے مکان یہ اب پوچھتے ہیں لوگ تنہا کھڑا ہوں شہر کے بازار میں رضاؔ کس حال میں ہوں کون ہوں کب پوچھتے ہیں لوگ





