
Quadir Hanfi
Quadir Hanfi
Quadir Hanfi
Ghazalغزل
گیت الفت کے سناؤ خوش دلی سے شہر میں سب کو تم اپنا بناؤ سادگی سے شہر میں سارے رشتے ہو گئے جیسے جہاں میں مطلبی بے غرض ملتا نہ کوئی اب کسی سے شہر میں اس طرح رسوا سر بازار کرتے جاؤ گے کون پھر رہ پائے گا اپنی خوشی سے شہر میں کوئی تو ساماں بنے تسکین کا قادرؔ یہاں آؤ دل بہلائیں اپنا شاعری سے شہر میں
giit ulfat ke sunaao khush-dili se shahr mein
یہ دل کسی کے عشق کا مارا کبھی نہ تھا درد و الم کا زیست پہ سایہ کبھی نہ تھا جس کو خیال و خواب میں دیکھا کبھی نہ تھا دلدار وہ بنا جو شناسا کبھی نہ تھا ہر ہر قدم پہ جھوٹ ہے مکر و فریب ہے جیسا یہ اب کے دور ہے ویسا کبھی نہ تھا دولت نے آ کے بیچ میں تکرار چھیڑ دی ورنہ تو بھائی بھائی میں جھگڑا کبھی نہ تھا ہمدردگان پوچھ رہے ہیں سبھی مزاج یہ رنگ التفات بھی ایسا کبھی نہ تھا
ye dil kisi ke 'ishq kaa maaraa kabhi na thaa
وفاؤں کا اسے میری اگر اقرار ہو جائے ہزاروں غم اٹھانے کو یہ دل تیار ہو جائے بہت محتاط رہتا ہوں میں اپنی رشتہ سازی پر کہیں ایسا نہ ہو پھر سے کوئی تکرار ہو جائے جو تیرا ساتھ ہے مجھ کو تو کیا خدشہ تلاطم کا یہ کشتی ڈوب جائے یا بھلے سے پار ہو جائے بڑا جادو جھلکتا ہے تری مسرور آنکھوں میں نظر اک دیکھ لے جس کو وہی فنکار ہو جائے غموں کی بھیڑ میں کٹتے نہیں اب روز و شب قادرؔ شکستہ دل کے گوشے میں کوئی جھنکار ہو جائے
vafaaon kaa use meri agar iqraar ho jaae
کبھی تو دل سے اپنایا گیا ہوں کبھی اپنوں سے لڑوایا گیا ہوں حسد اس کو ہے میری رفعتوں سے میں ہر اک گام الجھایا گیا ہوں میں شاید راز ہوں نایاب کوئی تحائف دے کے للچایا گیا ہوں کہاں تک پارسا ثابت کروں میں جہاں ہر بار جھٹلایا گیا ہوں ادھر اک بھیڑ دوڑی جا رہی ہے سنا ہے میں کہیں پایا گیا ہوں ابھی موسم بہاروں کا ہے قادرؔ تو کیا دانستہ مرجھایا گیا ہوں
kabhi to dil se apnaayaa gayaa huun
میں جس جانب بھی جاتا ہوں ادھر اچھا نہیں لگتا ترے بن کوئی دن کوئی پہر اچھا نہیں لگتا اگر میں گھر میں آتا ہوں کہ حاصل کچھ سکوں ہوگا قسم یادوں کی تیری مجھ کو گھر اچھا نہیں لگتا میں اس کو تاکتا رہتا ہوں اکثر چاندنی شب میں جو میں رنجیدہ ہوتا ہوں قمر اچھا نہیں لگتا حسد کی آگ میں خود راکھ ہو جاتا ہے وہ جل کر کسی کا جانا اس کو اوج پر اچھا نہیں لگتا میں اپنے عزم سے قادرؔ بناتا ہوں نئی راہیں اگر آسانیاں ہوں تو سفر اچھا نہیں لگتا
main jis jaanib bhi jaataa huun udhar achchhaa nahin lagtaa





