SHAWORDS
Raaz Layalpuri

Raaz Layalpuri

Raaz Layalpuri

Raaz Layalpuri

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

muqaddar mein likhaa hai gham hi gham kyaa

مقدر میں لکھا ہے غم ہی غم کیا اسی کے ہو کے رہ جائیں گے ہم کیا دل برباد میں برسوں رہے ہیں یہ غم کیا درد کیا رنج و الم کیا بجز رسوائی اس میں کچھ نہیں ہے محبت کیا محبت کا بھرم کیا ارادہ ترک الفت کا تو کر لوں اٹھا سکتا ہے دل ایسا قدم کیا انہیں تو رازؔ دیکھے گا پشیماں تری آنکھیں نہ ہو جائیں گی نم کیا

غزل · Ghazal

yahi ik baat saaqi ko bataane ki zarurat hai

یہی اک بات ساقی کو بتانے کی ضرورت ہے ہمارے قرب میں اک بادہ خانے کی ضرورت ہے کہاں جائیں ترے مستانے اے ساقی کہاں جائیں ترے ہی سائے میں مستوں کو آنے کی ضرورت ہے خدا کے سامنے سر کو اٹھانے سے ہے کیا حاصل خدا کے سامنے سر کو جھکانے کی ضرورت ہے گھٹائیں گھر کے آئی ہیں سر مے خانہ اے ساقی ہمیں اب جام بھر بھر کر پلانے کی ضرورت ہے جو ہیں مارے ہوئے رنج و غم و آلام کے اے رازؔ انہیں مے خانے میں اک جام اٹھانے کی ضرورت ہے

غزل · Ghazal

maanaa ki tiri bazm mein chaand aae hue hain

مانا کہ تری بزم میں چاند آئے ہوئے ہیں لیکن وہ ترے سامنے گہنائے ہوئے ہیں جو ہم سے نہ ملنے کی قسم کھائے ہوئے ہیں شاید وہی اغیار کے بہکائے ہوئے ہیں مہتاب کے حالات بھی دیکھیں تو کبھی وہ اس حسن دو روزہ پہ جو اترائے ہوئے ہیں کہہ دو انہیں آ کر مری جنت میں وہ بس جائیں جنت سے نکالے ہوئے جو آئے ہوئے ہیں آئے گی نظر رازؔ کوئی کل بھی نہ سیدھی سر تا بہ قدم آج وہ بل کھائے ہوئے ہیں

غزل · Ghazal

madhoshiyon se kaam liyaa hai kabhi kabhi

مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھی کبھی ہاتھ ان کا ہم نے تھام لیا ہے کبھی کبھی مے کش بھلا سکیں گے نہ ساقی کا یہ کرم گرتوں کو اس نے تھام لیا ہے کبھی کبھی ساقی نے جو پلائی ہماری ہی تھی خرید ہم سے بھی اس نے دام لیا ہے کبھی کبھی کیا بات ہے کہ ترک تعلق کے باوجود ہم نے تمہارا نام لیا ہے کبھی کبھی اے فرط شوق ہم نے تصور کے فیض سے نظارہ ان کا عام لیا ہے کبھی کبھی ٹھکراتا کیسے حسن کی اس پیش کش کو میں مجبور ہو کے جام لیا ہے کبھی کبھی دیکھا کبھی نہیں انہیں اے رازؔ بزم میں جلوہ کنار بام لیا ہے کبھی کبھی

غزل · Ghazal

teraa kyaa jaataa jo miltaa jaam-e-rehaani mujhe

تیرا کیا جاتا جو ملتا جام ریحانی مجھے مے کے بدلے ساقیا تو نے دیا پانی مجھے مے گساری میں وہ اب پہلی سی کیفیت نہیں دے دیا ساقی نے کیا بے کیف سا پانی مجھے اب کسی مشروب سے دل چین پا سکتا نہیں کاش وہ آ کے پلا دے تیغ کا پانی مجھے دے دیا ساقی نے بھر کر مجھ کو بھی جام شراب میں تو کہتا ہی رہا پانی مجھے پانی مجھے اس کو جانوں یار مخلص اس کو مانوں غم گسار جو پلا دے رنج میں کلفت ربا پانی مجھے چل پڑیں سانسیں دھڑکنے لگ گئیں نبض حیات کیا کسی نے دے دیا انگور کا پانی مجھے وہ تپ غم ہے کہ سوکھے ہیں لب و کام و دہن کاش آ کر وہ پلائیں دید کا پانی مجھے پی رہا ہوں شوق سے اے رازؔ جس کو آج تک ایک دن آخر ڈبو دے گا وہی پانی مجھے

Similar Poets