
Raazdan Raaz
Raazdan Raaz
Raazdan Raaz
Ghazalغزل
جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائے کل ہمیں جانے کہاں وقت اٹھا لے جائے خدمت خلق سے ہستی کو فروزاں کر لے کیا پتہ کون سی ظلمت میں قضا لے جائے اس لئے کوئی جہاں سے نہ گیا کچھ لے کر کیا ہے دنیا میں کوئی ساتھ بھی کیا لے جائے بانٹ دے سب میں یہ خوشیاں جو ملی ہیں تجھ کو اس سے پہلے کہ کوئی ان کو چرا لے جائے تو جسے ڈھونڈ رہا ہے وہ ترے اندر ہے خود سے ملوانے تجھے کون بھلا لے جائے آندھیاں تو نہ ہلا پائیں تجھے رازؔ مگر اب اڑا کر نہ کہیں باد صبا لے جائے
jis kaa ji chaahe faqiron ki duaa le jaae
دل کبھی بے وفا نہیں ہوتا وقت کا کچھ پتہ نہیں ہوتا اپنی اپنی ہے سب کی مجبوری دل کسی کا برا نہیں ہوتا اپنا اپنا خیال ہے ورنہ کچھ برا یا بھلا نہیں ہوتا غم ہی اک دوست ہے ہمیشہ کا زندگی بھر جدا نہیں ہوتا خون دے دے کے میں نے سینچا ہے ورنہ گلشن ہرا نہیں ہوتا بٹ کے ہم لوگ رہ گئے ورنہ اپنی دنیا میں کیا نہیں ہوتا
dil kabhi be-vafaa nahin hotaa





