
Raees Niyazi
Raees Niyazi
Raees Niyazi
Ghazalغزل
jab sambhal kar qadam uThaataa huun
جب سنبھل کر قدم اٹھاتا ہوں کوئی ٹھوکر ضرور کھاتا ہوں آپ سے جب نظر ملاتا ہوں کون ہوں کیا ہوں بھول جاتا ہوں مجھ پہ اے رنگ ڈالنے والو میں تو رنگوں کا جنم داتا ہوں وقت ہے مبتلائے خواب عدم ٹھوکریں مار کر جگاتا ہوں ذہن ایسا ہے کچھ پراگندہ یاد کرتا ہوں بھول جاتا ہوں ڈھونڈھتے پھر رہے ہیں دونوں جہاں دیکھیے کس کے ہاتھ آتا ہوں اب نہیں ہے کراہنے کی سکت چوٹ کھاتا ہوں مسکراتا ہوں
tumhaari bazm mein mujh tak bhi jaam aayaa to
تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تو وفور شوق نے کوئی مقام پایا تو قدم قدم پہ ہماری ہی آزمائش ہے اگر تمہیں کسی منزل پہ آزمایا تو ہم اپنی تاب نظر سے بہت پشیماں ہیں پھر اب کی بار ہمیں کچھ نظر نہ آیا تو دل تباہ سے شاید کوئی کرن پھوٹی حریم شوق کا ہر گوشہ جگمگایا تو تمہارے غم کو متاع حیات سمجھا ہوں بہ اتفاق یہ غم بھی نہ راس آیا تو مجھے ستاؤ بڑے شوق سے ستاؤ تم مجھے ستا کے بھی تم نے نہ چین پایا تو





