
Raees Warsi
Raees Warsi
Raees Warsi
Ghazalغزل
یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے بچھڑ گئے تھے جو ہم سے وہ خواب میں آئے وہ جس کی راہ میں ہم نے بچھائے غنچہ و گل اسی مکان سے پتھر جواب میں آئے نہ جس کو دست حنائی کا تیرے لمس ملے کہاں سے بوئے وفا اس گلاب میں آئے تمہارے حسن نظر سے ہیں معتبر ہم بھی جو ہم کسی نگہ انتخاب میں آئے اگرچہ مثل ہے آب رواں کے ریگ سراب کہاں سے شورش دریا سراب میں آئے ترے خیال کا پیکر سجا ہے سینے میں ہم اس طرح تری چشم خوش آب میں آئے ہوا کے دوش پہ اس نے لکھا ہے نام رئیسؔ یہ سن کے لوگ بہت پیچ و تاب میں آئے
ye marhale bhi mohabbat ke baab mein aae
4 views
اسے بھلا کے بھی یادوں کے سلسلے نہ گئے دل تباہ ترے اس سے رابطے نہ گئے کتاب زیست کے عنواں بدل گئے لیکن نصاب جاں سے کبھی اس کے تذکرے نہ گئے مجھے تو اپنی ہی سادہ دلی نے لوٹا ہے کہ میرے دل سے مروت کے حوصلے نہ گئے میں چاند اور ستاروں کے گیت گاتا رہا مرے ہی گھر سے اندھیروں کے قافلے نہ گئے رئیسؔ جرأت اظہار میرا ورثہ ہے قصیدے مجھ سے کسی شاہ کے لکھے نہ گئے
use bhulaa ke bhi yaadon ke silsile na gae
3 views
میں ایک کانچ کا پیکر وہ شخص پتھر تھا سو پاش پاش تو ہونا مرا مقدر تھا تمام رات سحر کی دعائیں مانگی تھیں کھلی جو آنکھ تو سورج ہمارے سر پر تھا چراغ راہ محبت ہی بن گئے ہوتے تمام عمر کا جلنا اگر مقدر تھا فصیل شہر پہ کتنے چراغ تھے روشن سیاہ رات کا پہرا دلوں کے اندر تھا اگرچہ خانہ بدوشی ہے خوشبوؤں کا مزاج مرا مکان تو کل رات بھی معطر تھا سمندروں کے سفر میں وہ پیاس کا عالم کہ فرش آب پہ اک کربلا کا منظر تھا اسی سبب تو بڑھا اعتبار لغزش پا ہمارا جوش جنوں آگہی کا رہبر تھا جو ماہتاب حصار شب سیاہ میں ہے کبھی وہ رات کے سینے پہ مثل خنجر تھا میں اس زمیں کے لیے پھول چن رہا ہوں رئیسؔ مرا نصیب جہاں بے اماں سمندر تھا
main ek kaanch kaa paikar vo shakhs patthar thaa
2 views
اب تو جو منظر شاداب نظر آتا ہے ایسا لگتا ہے کوئی خواب نظر آتا ہے اس حسیں شہر میں ہر سمت ہے لوگوں کا ہجوم اور انساں ہے کہ نایاب نظر آتا ہے کب تلک جنس وفا شہر میں ارزاں ہوگی اب یہ دریا بھی تو پایاب نظر آتا ہے گردش وقت نے ایسے بھی تراشے ہیں سراب دشت بے آب میں گرداب نظر آتا ہے ہونے لگتا ہے ترے قرب کا احساس مجھے چودھویں شب کو جو مہتاب نظر آتا ہے تیری انگشت حنائی کا جسے لمس ملے وہ نگینہ بڑا خوش آب نظر آتا ہے اس کی خوشبو سے معطر مرا آنگن ہے رئیسؔ جاگتی آنکھ سے یہ خواب نظر آتا ہے
ab to jo manzar-e-shaadaab nazar aataa hai
2 views
جو دیکھو تو وہ چہرہ اجنبی ہے اگر سوچو تو وجہ زندگی ہے مجھے ہے اعتراف جرم الفت مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے مری آنکھیں لٹاتی ہیں جو گوہر مزاج عشق میں دریا دلی ہے مسیحائی نہ تم سے ہو سکے گی ہمارا درد الفت دائمی ہے ترا پیکر خیالوں میں بسا ہے ہر اک سو روشنی ہی روشنی ہے ہمیں راس آ گئی خوباں پرستی بڑی دل کش ہماری زندگی ہے تری چاہت کا ہے یہ بھی کرشمہ عدو سے بھی ہماری دوستی ہے مجھے مے کش سمجھتا ہے زمانہ نگاہوں میں خمار عاشقی ہے مزہ جب ہے وہ کہہ دے بے خودی میں قرار جاں رئیسؔ وارثی ہے
jo dekho to vo chehra ajnabi hai
1 views
اک لمحۂ وصال تھا واپس نہ آ سکا وہ وقت کی مثال تھا واپس نہ آ سکا ہر اک کو اپنا حال سنانے سے فائدہ میرا جو ہم خیال تھا واپس نہ آ سکا شاید مرے فراق میں گھر سے چلا تھا وہ زخموں سے پائمال تھا واپس نہ آ سکا شاید ہجوم صدمۂ فرقت کے گھاؤ سے وہ اس قدر نڈھال تھا واپس نہ آ سکا شاید میں اس کو دیکھ کے سب کو بھلا ہی دوں اس کو یہ احتمال تھا واپس نہ آ سکا کتنے خیال روپ حقیقت کا پا گئے جو مرکز خیال تھا واپس نہ آ سکا مجھ کو مرے وجود سے جو کر گیا جدا کیسا وہ با کمال تھا واپس نہ آ سکا ہر دم رئیسؔ وہ تو نظر کے ہے سامنے تیرا تو یہ خیال تھا واپس نہ آ سکا
ik lamha-e-visaal thaa vaapas na aa sakaa





