
Rafat Shameem
Rafat Shameem
Rafat Shameem
poet
2Ghazal
Ghazalغزل
غزل · Ghazal
aankh har shab ko andheron ki qabaa dhoti hai
آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہے خواب کی ریت میں سورج کا شجر بوتی ہے ایک گمنامی کا جنگل ہوں جہاں شکل مری اپنی پہچان کا ہر نقش یقیں کھوتی ہے دور ان دیکھی سی سرحد ہے کہ جس کے اس پار کوئی بستی ہے جو راتوں کو سدا روتی ہے سطح چادر پہ شکن اور سر بالیں پہ نشیب یہ تو تنہائی ہے بستر پہ مرے سوتی ہے بھولی بسری ہوئی یادوں کی عجب بھیڑ ہے جو دل کے دروازے پہ ہر شام لگی ہوتی ہے
غزل · Ghazal
dar kisi kaa khulaa nahin lagtaa
در کسی کا کھلا نہیں لگتا شہر یہ آشنا نہیں لگتا غم ہے فکر معاش میں ایسا آدمی کا پتا نہیں لگتا دوست جب سے ہوئے ہمارے تم کوئی دشمن برا نہیں لگتا یوں تو ملتے ہیں ٹوٹ کر لیکن ربط وہ دیر پا نہیں لگتا وعدہ حوروں کا بعد مرنے کے بندگی کا صلا نہیں لگتا





