
Raft Bahraichi
Raft Bahraichi
Raft Bahraichi
Ghazalغزل
کسی پردے میں کوئی جلوہ گر ہوگا تو کیا ہوگا تحیر میں جو غم ذوق نظر ہوگا تو کیا ہوگا محبت کا اگر الٹا اثر ہوگا تو کیا ہوگا نظام زندگی زیر و زبر ہوگا تو کیا ہوگا دلیل عام جب ہے زندگی میں انقلاب آنا تو ہی ہمدم اگر بیداد گر ہوگا تو کیا ہوگا پتا دیتی ہے ہر منزل پہ خود ہی اپنی منزل کا محبت میں نہ کوئی راہبر ہوگا تو گیا ہوگا مذاق ذوق سجدہ نا مکمل رہ نہیں سکتا اگر معدوم ان کا سنگ در ہوگا تو کیا ہوگا مسلسل بڑھتی جاتی ہے محبت کی تپش دل میں بتا دینا ذرا اے چشم تر ہوگا تو کیا ہوگا محبت جبکہ فطرت ہے تو غم کس بات کا رافتؔ بلا سے درد دل درد جگر ہوگا تو کیا ہوگا
kisi parde mein koi jalva-gar hogaa to kyaa hogaa
دنیا سے نرالے ہیں یہ انداز حیا کے وہ مجھ کو چھپاتے ہیں تصور میں بھی آ کے رہ جائیں گے دنیا میں بہت تذکرے باقی کچھ میری وفا کچھ مرے قاتل کی جفا کے گمراہ رہ عشق میں گھبرائے ہیں ایسے لیتے ہیں قدم دوڑ کے ہر راہنما کے سر کو جو گرایا بھی تو اس بت کے قدم پر احسان مرے سر پہ مری لغزش پا کے رافتؔ ہمیں فردوس میں جاگیر ملے گی مداح ازل سے ہیں شہہ ارض و سما کے
duniyaa se niraale hain ye andaaz hayaa ke
ذوق وفائے عشق نہ رسوا کریں گے ہم تڑپائیں گے حضور تو تڑپا کریں گے ہم یوں رسم بندگی میں اضافہ کریں گے ہم ان کو بٹھا کے سامنے سجدہ کریں گے ہم حاصل کلام عشق میں اور کیا کریں گے ہم بندہ نواز آپ کو سجدہ کریں گے ہم کیا غم ہے کیا خوشی ہے نہ پوچھا کریں گے ہم ہر رخ سے زندگی کا نظارا کریں گے ہم دو دن کی زیست اس پہ الم کی زیادتی اس کا ضرور آپ سے شکوہ کریں گے ہم آئینہ آ چکا ہے برابر ثبوت میں ویسا جواب پائیں گے جیسا کریں گے ہم بڑھتا ہے غم نصیبوں کے رونے سے اور دکھ اب آبلوں کو اپنے نہ چھیڑا کریں گے ہم دیر و حرم سے شاد کہ ناشاد آئے ہیں اس بات کا کسی سے نہ چرچا کریں گے ہم رافتؔ فراق دوست کو بدنام کیوں کریں سو لطف انتظار میں پیدا کریں گے ہم
zauq-e-vafaa-e-'ishq na rusvaa kareinge ham
تمام عمر زباں سے یہی تو کام لیا تمہارا نام لیا یا خدا کا نام لیا مری زباں نے خدایا یہ کس کا نام لیا جو مجھ کو میرے تحمل نے بڑھ کے تھام لیا سلا دیا انہیں جاگے تھے جو شب غم کے اجل نے اپنے ہی ہاتھوں یہ نیک کام لیا جو ظرف رکھتے ہیں اعلیٰ وہ بادہ کش ہم ہیں کبھی نہ دور میں ساقی سے اٹھ کے جام لیا نکل چکی تھی مرے دل سے آہ عالم سوز یہ کہیے خیر ہوئی ضبط نے جو تھام لیا وہ کون ہے یہ ہمیں بھی بتاؤ اے رافتؔ یہ چپکے چپکے ابھی جس کا تم نے نام لیا
tamaam 'umr zabaan se yahi to kaam liyaa
عدم سے لائی ہے ہستی میں جستجو تیری ٹھہرنے دے گی یہاں بھی نہ آرزو تیری بسر ہوئی شب غم کس طرح سے پوچھ تو لے مرے تڑپنے کی شاہد ہے آرزو تیری ہے کعبے میں نہ تسلی نہ بت کدہ میں سکوں مجھے کہیں کا نہ رکھے گی آرزو تیری شب فراق میں اب جان لے کے نکلے گی اجل کے بھیس میں آئی ہے آرزو تیری کلیم دے چکے اب میرا امتحاں لے لے مجھے بھی طور پہ لائی ہے آرزو تیری تسلیاں تو شب غم میں دل کو دیتی ہے کہوں گا تجھ سے تو اچھی ہے آرزو تیری بتوں کو مرجع حاجت بنا نہ اے رافتؔ کہیں بنا نہ دے کافر یہ آرزو تیری
'adam se laai hai hasti mein justuju teri





