SHAWORDS
Rahat Sarhadi

Rahat Sarhadi

Rahat Sarhadi

Rahat Sarhadi

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

zikr shabbir se nikal aayaa

ذکر شبیر سے نکل آیا خون تحریر سے نکل آیا ہے غریبی کی فصل گل کہ ثمر چھت کے شہتیر سے نکل آیا رقص میں یوں لگے مجھے جیسے جسم زنجیر سے نکل آیا میری قسمت تو دیکھیے صاحب خواب تعبیر سے نکل آیا لے کے اپنی کمان و تیغ و سپر سایۂ پیر سے نکل آیا عذر تخریب گر پس پردہ شوق تعمیر سے نکل آیا میری تنہائی بانٹنے راحتؔ عکس تصویر سے نکل آیا

غزل · Ghazal

jaa baiThe nadi kinaare raat aur main

جا بیٹھے ندی کنارے رات اور میں دونوں اک دوجے کے سہارے رات اور میں اک جیسے حالات کے مارے ہیں سارے رستے پتے چاند ستارے رات اور میں جاگ کئی دن بعد تجھے ملنے آئے آج پرانے دوست تمہارے رات اور میں کچھ گھر دیر سے آنے والوں کے سائے اور کئی بے در بے چارے رات اور میں چپ کی تاریکی کے سینے سے لگ کر سو جائیں گے منظر سارے رات اور میں خاک اڑاتی خوابیدہ سڑکیں راحتؔ گلیاں بے رونق چوبارے رات اور میں

غزل · Ghazal

banaa ke talkh haqaaeq se par nikalti hai

بنا کے تلخ حقائق سے پر نکلتی ہے چٹان میں بھی اگر ہو خبر نکلتی ہے مری طرف سے اجازت ہے دیکھ لو خود ہی کہیں جدائی کی صورت اگر نکلتی ہے وہ تیرگی ہے کہ خود راہ ڈھونڈنے کے لیے چراغ ہاتھ میں لے کر سحر نکلتی ہے غرور اتنا بھی کیا اپنی شان شوکت پر یہ خوش گمانی تو کٹوا کے سر نکلتی ہے مرے خیال میں تسخیر شش جہت کے لیے تری گلی سے کہیں رہ گزر نکلتی ہے نہ رات سنتی ہے راحتؔ فغان صید یہاں نہ دھوپ دیکھ کے ظرف شجر نکلتی ہے

Similar Poets