SHAWORDS
Rahbar Pratapgarhi

Rahbar Pratapgarhi

Rahbar Pratapgarhi

Rahbar Pratapgarhi

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

shab ki taariki mein bhi ik dam saveraa ho gayaa

شب کی تاریکی میں بھی اک دم سویرا ہو گیا انجمن میں ان کے آنے سے اجالا ہو گیا وہ تھا بد قسمت نگاہیں جس نے ان سے پھیر لیں بزم میں ہوتے ہوئے وہ شخص تنہا ہو گیا دشمنوں کی زہر افشانی سے تھا میں فکر مند لب پہ ان کا نام کیا آیا میں دریا ہو گیا قتل انساں ہو رہا ہے نفرتوں کی بھیڑ میں ہائے خون انسان کا کس درجہ سستا ہو گیا یہ بھی موبائل کا اک ادنیٰ کرشمہ ہے میاں وقت سے پہلے ہی ہر بچہ سیانا ہو گیا آدمی ہی سے خطائیں ہوتی ہیں اے دوستو کس نے کب دعویٰ کیا رہبرؔ فرشتہ ہو گیا

غزل · Ghazal

koi lamha zindagi kaa be-mazaa hotaa nahin

کوئی لمحہ زندگی کا بے مزا ہوتا نہیں تیری یادوں سے اگر یہ دل جدا ہوتا نہیں منزل مقصود سے دل آشنا ہوتا نہیں کم تمہارے راستے کا سلسلہ ہوتا نہیں اپنی منزل کا جسے خود ہی پتا ہوتا نہیں راہ رو ہوتا ہے لیکن رہنما ہوتا نہیں آپ احساں مت جتائیں حج و عمرہ بھیج کر زندگی دے کر بھی ماں کا حق ادا ہوتا نہیں آگ نفرت کی زباں پر لے کے چلتا ہے وہی امن سے جس شخص کو کچھ واسطہ ہوتا نہیں پیار جس کی زندگی ہے آشتی پیغام ہے یہ سبق ایسا ہے جو مجھ سے جدا ہوتا نہیں خون دل خون جگر کے ساتھ ہے اردو زباں پھر تو اے رہبرؔ ترا دل بے صدا ہوتا نہیں

غزل · Ghazal

miliye zarur us se hamesha khushi ke saath

ملیے ضرور اس سے ہمیشہ خوشی کے ساتھ جو آدمی بھی تم سے ملے سادگی کے ساتھ دشمن کا ہے سلوک بھی اب یار کی طرح تم ہی بتاؤ کیا کروں اس دشمنی کے ساتھ خوشیوں کے ساتھ ساتھ ہے غم کا وبال بھی دونوں جڑے ہوئے ہیں اسی آدمی کے ساتھ مجھ کو عظیم تر کیے سر پر لیے ہوئے کچھ لوگ جا رہے ہیں مگر خامشی کے ساتھ ہر پہلو میری زیست کا روشن ہے یاد سے ہر یاد بھی جڑی ہے تری سادگی کے ساتھ یہ تو بتا دے لوگ تجھے کہہ رہے تھے کیا جس دن ملا تھا تجھ سے بھی میں عاجزی کے ساتھ رہبرؔ تمہارے کام کا انجام نیک ہے ہر کام یوں ہی کرتے رہو خوش دلی کے ساتھ

غزل · Ghazal

tiri gali mein koi ham-zabaan nahin miltaa

تری گلی میں کوئی ہم زباں نہیں ملتا مکاں تو ہیں کوئی اہل مکاں نہیں ملتا کروں میں کیسے بھلا اعتبار لوگوں کا یہاں کسی کا بھی چہرہ عیاں نہیں ملتا اگرچہ عیش کے سامان سارے ہیں موجود مگر کوئی بھی ہمیں شادماں نہیں ملتا کبھی جو عام تھا لوگوں کی تشنگی کے لیے ہمارے گاؤں میں اب وہ کنواں نہیں ملتا جو اپنی منزل مقصود سے نہیں واقف اسے فریب تمنا کہاں نہیں ملتا کہوں نہ تم سے تو میں حال دل کہوں کس سے سوا تمہارے کوئی رازداں نہیں ملتا ہے نسل نو کے لیے فکر لازمی رہبرؔ دل و نظر کا کوئی نوجواں نہیں ملتا

Similar Poets